“Gazza: A Humanitarian Crisis”اِنّ بَطشَ رَبّکَ لَشَدِید…..بے شک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
امریکہ کی زرخیر ترین ریاست کیلیفورنیا اور امراء کے خوابوں کے مسکن لاس اینجلس نے شعلوں کا کفن اوڑھ لیا، برفانی طوفان نے الگ قیامت ڈھادی،نصف امریکہ برفانی طوفان کی زد میں،32 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا9 روز سے مسلسل جاری آگ کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے جہنم کا دروازہ کھول دیا گیا ہو۔1300مربع کلومیٹر پر 1کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ لاس اینجلس نیویارک کے بعد آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا دوسرا بڑا شہر ہے،یہاں 140 ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں جو 200 سے زائد زبانیں بولتے ہیں یہ کوئی قدیم شہر نہیں 1781 میں میکسیکو کے44 آباد کاروں نے لاس اینجلس کی بنیاد رکھی 1847 میں یہ شہر امریکہ کا حصہ بنا
کیلیفورنیا میں 2022-23 کے دوران خوب بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے جھاڑیوں اور گھاس پھونس نے خوب پرورش پائی اس کے بعد سے اب تک خوش سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ خودرو جھاڑیاں سوکھ کر ایندھن کی شکل اختیار کر چکی ہیں،خشک آب و ہوا کی وجہ سے اس نہایت مالدار کاؤنٹی میں پہلے بھی جنگلی آگ کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔گذشتہ ہفتے Palisades کے علاقے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر جیمزکارٹر کا کہنا ہے؛یہ آگ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ انسانی غفلت اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے اگر ہم قدرتی وسائل کا یونہی بیدریغ استعمال کرتے رہے تو ایسے واقعات معمول بن جائیں گے۔آگ بجھانے والے ماہرین کے بقول؛آگ کی شدت اور رفتار نے انہیں حیرت میں ڈال دیا یہ آگ عام جنگلاتی آگ سے کہیں زیادہ شدید ہے ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے قدرت کو ناراض کر دیا ہو؛بی بی سی نے قیامت کے منظر دکھانے والی اس آگ کو امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی آگ قرار دیا۔
دو مرتبہ کے آسکر ایوارڈ یافتہ اور تین مرتبہ ایمی ایوارڈ اپنے نام کرنے والے جیمز ووڈ ایک مشہور امریکی اور ہالی ووڈ اداکار ہے گذشتہ دنوں امریکی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران زاروقطار رو پڑا اس کے رونے کے پیچھے کیا وجہ تھی آیئے جائزہ لیتے ہیں
اِنّ بَطشَ رَبّکَ لَشَدِید: اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کی صورت میں اسرائیل نے غزہ پر انسانی تاریخ کا بدترین حملہ کیا شدید بمباری کے نتیجے میں انسانی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں،بھوک افلاس نے لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا،جب ہر درد دل رکھنے والا انسان اس نسل کشی پر نوحہ کناں تھا تو کچھ بے ضمیر ایسے بھی تھے جو اہلِ فلسطین کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے تھے ان میں سے ایک جیمز ووڈ بھی تھا اس کی مسلم دشمنی کا یہ عالم تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کرتا ہے جس میں غزہ کی ایک عورت اپنے تباہ حال مکان کے ملبے پر بیٹھی آہ و زاری کر رہی ہے،جیمز ووڈ اس تصویر پر اسرائیل کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے “گڈ جاب “ ایک دوسری پوسٹ میں اپنی نفرت کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے؛ غزہ میں کسی کو بھی معاف نہیں کیا جانا چاہیے عورتوں بچوں سب کو مار دینا چاہیے، ان سب کو مار ڈالو شاباش نیتن یاہو؛7 جنوری 2025 کو جب بحر الکاہل کے کنارے بسے خوبصورت شہر لاس اینجلس کی رہائشی آبادیوں کو جنگلی آگ نگل رہی تھی تو ان گھروں میں ایک گھر جیمز ووڈ کا بھی تھا
امریکی حکومت نے غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کو 100 ارب ڈالر کا اسلحہ فراہم کیا،ایک سال تک مسلسل نہتے شہریوں کو خاک و خون میں نہلانے، بستیوں کو مسمار کرنے میں اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا نقصان24گھنٹوں کی آگ نے کر دیا،حالیہ اطلاعات کے مطابق 60 لاکھ سے زائد افراد آگ کے شدید خطرے سے دوچار قرار دیے گئے ہیں 38,000 ایکڑ رقبے پر پھیلی عمارتیں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکیں،ابتدائی 3 دنوں کی آگ سے امریکی معیشت کو 75 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا اِنّ بَطشَ رَبّکَ لَشَدِید۔حالیہ بربادی کے پس منظر میں لاس اینجلس واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے سابق منیجر مارٹن ایڈمز کا بیان انسان کوورطہ حیرت میں ڈالنے کے لیے کافی ہے،ایڈمز کے بقول پیلی سیڈ ایریا میں کسی گھر یا عمارت کی آگ بجھانے کے لیے کافی مقدار میں پانی کے گیلن میسر ہوتے ہیں لیکن آگ اگر اتنے بڑے پیمانے پر لگی ہو اور 10سے زائد فائر یونٹ بیک وقت پانی کھینچ رہے ہوں تو یہ پانی بہت کم پڑ جاتا ہے آگ بجھانے والے محلول اور پانی پھینکنے کی دوسری صورت ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ممکن ہو سکتی ہے لیکن شدید طوفانی ہواؤں کی وجہ سے 7اور8 جنوری کو یہ اڑ نہیں سکے
| پہلو | تفصیل | بنیادی مسائل | اثرات |
|---|---|---|---|
| انسانی صورتحال | غزہ میں شدید انسانی بحران | مسلسل تنازع، محاصرہ | شہری آبادی شدید متاثر |
| صحت و علاج | اسپتالوں اور ادویات کی کمی | طبی سہولیات کی تباہی | اموات میں اضافہ |
| خوراک و پانی | صاف پانی اور خوراک کی قلت | ناکہ بندی، سپلائی میں رکاوٹ | غذائی قلت، بیماریوں کا پھیلاؤ |
| عالمی ردِعمل | عالمی اداروں کی تشویش | محدود امداد، سیاسی اختلافات | بحران کے حل میں تاخیر |

