“From Thrones to Dust: The Destiny of Royals”وقت کے کٹہرے میں شاہ اور شہزادے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
یہ عنوان تاریخ کے ان اوراق کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں اقتدار کی چمک ماند پڑ گئی اور شاہی عظمت وقت کے ہاتھوں بکھر گئی۔ تاج، محل اور لشکر لمحاتی طاقت کی علامت بنے رہے، مگر انجام ہمیشہ ایک سا رہا۔ یہ تمہید یاد دلاتی ہے کہ اختیار کے نشے میں ڈوبا ہوا ہر شاہ اور شہزادہ آخرکار وقت کے کٹہرے میں کھڑا ہوا، جہاں نہ نسب کام آیا نہ تخت۔

لیبیا کے کرنل قذافی شاہانہ زندگی گزارتے،خیمے میں رہتے،اونٹنی کا دودھ پیتے،زنانہ حفاظتی دستہ ہر وقت انکے ساتھ ہوتا،2009 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک گئے تو امریکی حکومت کو مجبور کیا کہ انکا خیمہ کھلی جگہ لگایاجائے،اسی طرح فرانس کے سرکاری دورہ پر بھی خیمہ،اونٹنیاں اور زنانہ دستہ ساتھ ساتھ رہا،شوخ رنگ کے لباس پہنتے،اپنے خیالات کو آفاقی سمجھتے تھے،لیبیا کے لوگ قذافی کی طرف سے دی گئی سہولتوں کی وجہ سے کرنل قذافی کو آئیڈیل رہنما مانتے،پورے ملک میں بجلی فری،عوام کو بلا سود قرض کی سہولت،علاج، تعلیم فری،شرح خواندگی 83 فیصد،کسانوں کو حکومت کی جانب سے مفت بیج،زرعی آلات،جانور دیے جاتے،ستائیس ارب ڈالر سے دنیا کا پہلا دریا بنوایا،رہائش کی سہولیات موجود،لیکن اسی کرنل قذافی کو عوام نے 20 اکتوبر 2011 کو اس کے آبائی شہر سرت سے نکالا،گلیوں میں گھسیٹا،سڑک پر لٹا کر گولی ماری گئی،لاش کو گمنام صحرا کی ریت میں دفن کر دیا،کرنل قذافی نے دو غلطیاں کیں،ایک اپنے اقتدار کو مسلسل چالیس سال طول دیا،دوسرا تمام اختیارات اپنے پاس رکھے،ملک کا قانون بھی وہ تھا،معیشت بھی اسی کی تھی،آئین کا رکھوالا بھی وہ اکیلا شخص تھا،ثقافت اور مذہب پر بھی اسی کی اجارہ داری تھی،زوال توآنا ہی تھا۔

شہزادہ سیف اپنی 37 ویں سالگرہ دھوم دھام سے منانے کا ارادہ رکھتا تھا،قرعہ فال یورپی ملک مونٹے نیگرو کے نام نکلا،یہ واحد پورپی ملک ہے جہاں زندگی اپنی پوری رعنائیوں اور حشر سامانیوں کے ساتھ موجود،مونٹے نیگرو کی آمدنی کا واحد ذریعہ اس کے عشرت کدے ہیں، دنیا بھر سے آئے امرا کو ہیلی کاپٹروں،چھ دروازوں والی رولز رائس کے ذریعے اس الف لیلوئی دنیا میں پہنچایا جاتا،سالگرہ کی تقریب کے لیے دو ہزار مہمان مدعو،کیک کاٹنے کے لیے بحری جہاز منگوایا گیا جس کا عرشہ فٹبال کے سٹیڈیم جتنا،مناکو کا شہزادہ البرٹ،سونے کی کانوں کے مالک پیٹر منک سمیت دنیا بھر کے امراء، شرفا مدعو۔ریس کا رسیا، ملین ڈالر سے ریس کا آغاز کرتا،لندن پیرس میں گھر خریدتا کچھ دیر رہنے کے بعد دوستوں کو دھان کر دیتا،فرانس کی خصوصی خوشبوئیں، اطالوی لباس،جوتے صرف کمپنیاں سیف کے لیے تیار کرتیں،فسٹ ایڈیشن گاڑیوں کے خبط میں مبتلا،فن پاروں کا شیدائی،سرمایہ کاری میں خصوصی دلچسپی،اسی لیے والد نے قومی سرمایہ کاری بیورو کا چیف بنا دیا،جب چاہتا،جہاں چاہتا ایک ارب تک کی سرمایہ کاری کر سکتا،اس کے لیے اسے کسی کی اجازت درکار نہ تھی،ملکہ برطانیہ کا خاص مہمان،بیسیوں مرتبہ بکنگھم،ونڈسر پیلس میں لنچ یا ڈنر کرتا، لیبیا کی بااثر شخصیت، لیبیا کا جوہری پروگرام منسوخ کرنا ہو،قومی ایئر لائن کے لیے طیاروں کی خریداری کا معاملہ،سیف الاسلام کا فیصلہ حتمی ہوتا،کرنل قذافی کا دوسرا بیٹا،جانشین،ولی عہد، قذافی نے شہزادوں کی طرح پرورش کی،مگر ہونی ہو کر رہی،محلوں کا مکین کیسے عبرت سرائے دہر کا مہمان بنا،2011 میں باغیوں کی،نیٹو فورسز کے تعاون سے طرابلس کی جانب پیش قدمی کے نتیجے میں قذافی کا خاندان لیبیا چھوڑنے پر مجبور ہوا، سیف نے قصبہ عباری کے ایک معمولی گھر میں پناہ لی،راستے میں زخمی ہوا،انگلیوں کی پوریں اڑ گئیں لیکن ڈاکٹر کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا،خود ہی مرحم پٹی کرتا رہا،زخموں میں پیپ پڑ گئی،چوبیس گھنٹوں میں ایک بار کھانا کھاتا،شیو اورغسل کرنا بھول چکا تھا،اسی حالت میں 19 نومبر کو تین ماہ بعد عباری سے گرفتار ہوا،باغیوں کے پاؤں کو ہاتھ لگا کر جان کی امان پائی۔

صدام حسین16 جولائی1979 کو عراق کا صدر بنا،چوبیس برس تک صدر رہا،ملک کے چھ بڑے عہدے اس کے پاس رہے،دو قسم کی فوجوں کا سربراہ،ایک ملکی فوج جس کی تعداد پانچ لاکھ،دوسری اسکی اپنی ذاتی فوج،پورے ملک میں صدام حسین کے قدآور مجسمے نصب تھے،48 محلات کا مالک،کرنسی پر صدام کی تصویر،طاقت کا یہ عالم کہ آٹھ برس تک ایران کے ساتھ حالت جنگ میں رہا،2003 میں امریکہ نے اتحادی فوجوں کی مدد سے عراق پر حملہ کر دیا،صدام نے ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن کامیابی نصیب نہ ہو سکی،صدام حسین روپوش ہو گیا،آخر کار ایک قبر نما مورچے سے برآمد ہوا،کپڑے،داڑھی مٹی سے اٹے ہوئے،صدام حسین کو اس کے اپنے ملک میں 30 دسمبر 2006 کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔عوجہ میں سپرد خاک

صدام کا سب سے بڑا بیٹا؛ادے؛ 1964کو بغداد میں پیدا ہوا،والد کا وارث سمجھا جاتا تھا،شاہانہ طرز زندگی گزارتا، اسکے بیترتیب اور پر تشدد رویے کو بڑے پیمانے پر جانا جاتا تھا،ابو سرہان یعنی بھڑیا کے نام سے مشہور تھا،بیدریغ قتل،عصمت دری اور تشدد کرتا،عراقی اولمپک کمیٹی کا سربراہ بنا تو کھلاڑیوں کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا،صدام کے ذاتی ملازم کو سر عام قتل کر دیا مختصر عرصہ جیل میں رہنے کے بعد جلاوطن،1996 میں ایک قاتلانہ حملے میں جذوی طور پر اپاہج،صدام کے ذاتی معالج ڈاکٹر الابشیر کے مطابق ادے ایک نفسیاتی مریض، عورتوں کے جسموں کو سگریٹ سے داغتا،چاکو سے چھید ڈالتا

قصے حسین صدام کا دوسرا بیٹا،بڑے بھائی ادے کی طرح کمظرف اور بے رحم،قانون کی تعلیم حاصل کی،شاہانہ طرز زندگی گزارتا، وہ بھی والد کا جانشین مانا جاتا، 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا توصدام کے دونوں بیٹے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے، شمالی عراق کے موصل شہر کے ایک گھر میں صدام کے بیٹوں نے پناہ لی تھی اس گھر کے مالک کا نام صالح الزیدان تھا جو صدام کا رشتہ دار تھا۔اسی نے صدام کے بیٹوں کی مخبری کی اور 30 ملین ڈالر کا انعام حاصل کیا۔

ذولفقار علی بھٹو ملک کے مقبول اور طاقتور ترین حکمران،کیلیفورنیا سے سیاسیات،آکسفورڈ سے ایل ایل ایم کیا،لنکنز ان سے بار کیا، متعدد وزارتیں لیں،شعلہ بیان مقرر، 1977 کے دھاندلی زدہ الیکشن،اپوزیشن سڑکوں پر اوربھٹو صاحب کی انا ساتویں آسمان پر، 5 جولائی 1977 کو فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا بھٹو کو گرفتار کر کے مری پہنچا دیا گیا،مقصد بھٹو کو شرمندہ اور بے دست و پا کرنا تھا،23 دن بعد رہائی ہوئی،باہر نکل کر بھٹو نے پہلی تقریر کی ؛میں انکی مونچھوں کے ساتھ اپنے تسمے باندھوں گا؛ میں جس دن اقتدار میں آگیا جج اور جرنیل دونوں نہیں بچیں گے۔چنانچہ دوبارہ گرفتار کر لیے گئے،اور دونوں کے اتحاد سے تختہ دار پر چڑھا دے گئے، بھٹو کی ضد،زعم اور غلط فہمی انہیں پھانسی کے پھندے تک لے گئی، بھٹو جدی پشتی رئیس تھے، چاروں بچوں کو دنیا کی ہر نعمت میسر

میر مرتضی بھٹو خاندان کا بڑا بیٹا، الذولفقار کا با نی،آمر وقت کے زیر عتاب جس کی وجہ سے افغانستان میں جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی،فوجی عدالتوں سے سزائے موت کا حکم،20 ستمبر 1996 کی شام کو چھ کارکنوں کے ساتھ پولیس مقابلے میں مار دیے گئے

شاہنواز بھٹوعرف گوگی،بھٹو کا چھوٹا اور لاڈلا بیٹا،ایچی سن کالج سے تعلیم یافتہ،اعلی تعلیم سویٹزر لینڈ سے حاصل کی نہایت حساس،فرسٹریشن کا شکار،شراب پیتا اور دھاڑتا،مسکن ادویات کا عادی،والد کابدلہ لینے کے لیے الذولفقار نامی تنظیم کی بنیاد رکھی،بیروت سے گوریلہ جنگ کی تربیت لی،ستائیس سالہ جلاوطن شہزارہ18 جولائی 1985کو اپنے گھر نارنگ محل (کانز)میں مردہ حالت میں پایا گیا،پانچ ہفتوں تک لاش مردہ خانے میں پڑی رہی نہ کسی نے پھول بھیجے نہ فاتحہ پڑھی،گڑھی خدا بخش میں سپرد خاک۔ مقام عبرت ہے ان حکمرانوں کے لیے!کرنل قذافی کا انجام، شہزادہ سیف کی قدم بوسی،صدام حسین کی جاہ و حشمت، ادے،قصی کی حشر سامانیاں، بھٹو کا تکبر،ولی عہدوں کی عبرتناک موت آج دنیا کو چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ ملک میں انصاف نہ ہو، حکمران عام لوگوں کے راستے بند کر دیں تو لوگ کرنل قذافی جیسے محسنوں کو بھی سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں، لوگ طاقت کے تمام بت پاش پاش کر دیتے ہیں،ہر عروج کو زوال ہے