Site icon tazzakhabren.com

From Chappu to Amber: The Leader Who Wrote His Own Destinyچاپو سے عنبر تک

From Chappu to Amber: The Leader Who Wrote His Own Destinyچاپو سے عنبر تک

From Chappu to Amber: The Leader Who Wrote His Own Destinyچاپو سے عنبر تک,آج کے کالم کا موضوع ہے

وہ ایک حکمران نہیں بلکہ ایک علامت ہے ہمالہ جیسے حوصلے،پہاڑوں سے ٹکراتی جدوجہداور آخری گیند تک کھیل کر کامیابی حاصل کرنے کی،ایک ایسا رہنما جس نے اپنی قسمت خود لکھی، زنداں میں آزاد سوچ، ایسا نظریاتی سپاہی جس نے سلطنت کو چیلنچ کیا اور غلامی اور گمنامی دونوں سے رہائی پا گیا

From Chappu to Amber,چاپو سے عنبر تکhttps://tazzakhabren.com/get-well-soon-captain/

سنہ 1615دہلی سے دکن تک،اور پھر کابل سے بنگال تک شاہی پرچم ہوا سے باتیں کر رہا تھا مغلیہ سلطنت اپنی شوکت کے نصف النہار پر کھڑی تھی،دربار شاہی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سجا ہوا تھا،مگر امرا کے جبے زربفت تھے،دربار پر خاموشی کا راج جہاں سانسوں کی چاپ گستاخی محسوس ہوتی،شہنشاہ جہانگیرتختِ مرصع پر جلوہ افروز تھا چہرہ اقتدار کی تمکنت سے عاری شکست کی جلن سے تمتما رہاتھا رگیں تن چکی،آواز کپکپا رہی تھی،جہانگیر نے تالی بجائی دربار کا سکوت مزید گہرا ہوا ؛ابو الحسن سر کٹی تصویر لیے آفرینش بجا لایا، شہنشاہ کی نگاہ جیسے ہی تصویر پر پڑی اسکا ضبط ٹوٹ گیا۔۔۔ بدبخت،سیاہ رو،ملعون،کمینہ!دشناموں نفرینوں کا گویا سیلاب امڈ آیا،دربارمیں موت کا سناٹا تھا،اس لیے نہیں کہ سب وفادار تھے بلکہ اس لیئے کہ سب جانتے تھے کہ یہ تصویر ایسے شخص کی ہے جس نے مغلیہ ہیبت کے طلسم کو توڑ ڈالا تھا۔۔۔۔یہ سر کٹی تصویر ملک عنبر کی تھی وہی ملک عنبر،دکن کا مرد آہن،ایک غیر معمولی مدبر جس نے مغلوں کی ہر مہم کو خاک چٹائی،جس نے عظیم الشان شہنشاہ! اکبر کی میراث اور جہانگیر کے غرور کو دکن کی سنگلاخ وادیوں میں بار بار رسوا کیا وہی چاپو(اصل نام)جس کے سامنے مغل توپیں بے اثر ہو گئیں,شاہی لشکر راستہ بھولے اور سلطنت کا تکبر مٹی میں مل گیا

From Chappu to Amber,چاپو سے عنبر تک

ملک عنبر صرف ایک باغی نہیں وہ مغل اقتدار کے لیے ایک سوال تھاجس کا جواب توپوں سے نا دیا جا سکا،جہانگیر کے پاس تخت تھا،خزانوں کے منہ کھلے تھے،لشکر تھا،سلطنت تھی لیکن چاپو کے پاس وہ جرات حکمت اور سب سے بڑھ کر مزاحمت تھی جو سلطنت پر بھاری تھی یہی وجہ تھی کہ تخت پر بیٹھا بادشاہ غصب ناک تھا اور دکن کی پہاڑیوں میں لڑنے والا جنگجو تاریخ کے صفات پر فاتح ٹھہرا
عنبر کا اصل نام چاپو تھا اتھوپیا کے گمنام قبیلے میں پیدا ہوا،یمن کے ساحل، مکہ کے راستے اور بغداد کے بازار!چاپو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ فروخت ہوتا رہا اسی سرزمین پر چاپو کو احمد نگر کے طاقتور وزیر اعظم چنگیز خان نے خریدا یہ تاریخ کے ایک عظیم کردار کی تشکیل کا آغاز تھا چاپو نے سلطان کا اعتماد جیتا،دس ہزار حبشی سپاہیوں،چالیس ہزار دکنی جنگجوؤں پر مشتمل اپنی فوج ترتیب د ی وہ ایک ایسا دماغ تھا جو جنگ کو تلواروں سے نہیں تدبیر سے جیتتا، عنبر نے اس آفاقی حقیقت کو سمجھ لیاتھا؛ہر بڑی طاقت کی سب سے بڑی کمزوری اسکا غرور ہوتی ہے؛اس نے آمنے سامنے کی جنگ کو رد کیا یہ صرف جنگی حکمتِ عملی نہیں بلکہ سوچ کا انقلاب تھا جس نے دہلی کے تخت کو لرزا دیا،مغل سلطنت کے عظیم جرنیل اس کے ہاتھوں شکست کھاتے رہے،وہ صرف دکن کا جنگجو نا رہا بلکہ مغل سلطنت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا

آج کے پاکستان میں کامیاب سفارتکاری،اڑان پاکستان اور تیسری عالمگیر جنگ رکوانے میں ہمارے ثالثی کردار کے علاوہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی،زراعت صنعت تجارت کو قرضوں، ٹیکسوں اور پٹرول نے نگل لیا،رہ گیا نظام عدل تو اس کالے ناگ کا بچا کچا زہر اٹھائیسویںآئینی ترمیم کے ذریعے نکال دیا جائے گا، افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ہائبر یڈ نظام کی بے سر کی راگنی او رمجرمانہ خاموشی کی مرتکب،بیشرمی اور بے حسی کا لحاف اوڑھے لمبی تان سوئی اپوزیشن کےدرمیان ایک عنبر قوم کی آنکھیں کھولتا کھولتا اپنی بینائی کھو رہا ہے

From Chappu to Amber,چاپو سے عنبر تک

،آج کے ترقی یافتہ دور میں جب پوری دنیا ایک بٹن کے فاصلے پر ہے،بنگلہ دیش، سری لنکا،نیپال والوں نے کیسے طاقت کو للکارا اور اپنے حق چھینے،ایران مزاحمت کی داستانیں رقم کر رہا ہے اور ہم ایک عظیم چاپو کو اپنے ہاتھوں موت کی طرف دھکیل رہے ہیں،وکلاء کے ہاتھوں یرغمال، ہر منگل کو مٹھی بھر قیادت اڈیالہ جیل کے باہر دھیمے سروں میں؛ رہا کرو رہا کرو خان کو رہا کرو؛کاالاپ گا کر گھروں کی راہ لیتی ہے،ذوالفقار بھٹو نے پھانسی سے قبل تاریخی الفاظ کہے تھے؛بزدل قوم کے بہادر لیڈروں کا یہی انجام ہوتا ہے؛چاپو زندہ باد مزاحمت زندہ باد
یوم حساب ہو گا اور احتساب ہو گا
جس نے یہ دیدۂ بینا چھینا ہے اس کا بھی احتساب ہو گا

Exit mobile version