Site icon tazzakhabren.com

Former Prime Minister Imran Khan as “A lamp was burning in the custody”اِک دیا جل رہا تھا حوالات میں

Former Prime Minister Imran Khan as "A lamp was burning in the custody"اِک دیا جل رہا تھا حوالات میں

Former Prime Minister Imran Khan as “A lamp was burning in the custody”اِک دیا جل رہا تھا حوالات میں,

ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

کالم کا عنوان تخلیق کار،شاعراوریا مقبول جان کے؛قامت؛ کے بعد دوسرے شعری مجموعے؛اِک دیا جل رہا تھا حوالات میں؛ کے نام سے منسوب ہے،یہاں ذکر مقصود ہے اس دیے کا جو نامصائب آندھیوں میں بھی ٹمٹما رہا ہے،ڈھلتی عمر کا یہ جانباز اپنے یقین (میں آپ کو یہ جنگ جیت کے دکھاؤں گا)کو کندھے پر اٹھائے سوئے مقتل    چل پڑا ہے قید نے اسکے جسم کو جھکڑا ہے لیکن ارادوں اور حوصلوں  و مقید  کرنا ممکن نہیں رہا،وہ آزاد ہےاورمحو پروازہے،شخصیت،مزاج،کھلاڑی،سیاستدان،حوالاتی۔۔۔ شرمیلے،کھلنڈرے عمی سے مرشد تک کا سفر ایک تاریخ ہے جس کو بیان کرنے میں دفتر تو پہلے ہی کالے ہو چکے ہیں سو مزید لکھنا چراغ کو روشنی دکھانے جیسا ہے 

تاریخ کا قاری بخوبی جانتا ہے کہ کچھ تحریکیں اور رہنما اپنی مزاحمت،غیر متزلزل عزائم،دلیری اور پر امیدی کے باعث ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات ان میں حد درجہ کی مماثلت پائی جاتی ہے۔

محمد مرسی مصری بادشاہت کے آخری سالوں کے دوران 8اگست1951کو قاہرہ کے گاؤں؛ العدوہ؛ میں پیدا ہوئے جامعہ قاہرہ سے انجینئرنگ کی تعلیم کے بعد 1982 میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے میٹریل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی،2011 کے مصری انقلاب کے بعد فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے2012-13 تک مصر کے پانچویں حاکم تھے،مصر کی تاریخ میں فراعینِ ِمصر(فرعونوں کی حکومت) سے لے کر خلافت راشدہ اور اس کے بعد تک مکمل بادشاہت کا دور تھا،الاخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر مرسی پہلا جمہوری صدر تھا جو 65%  ووٹ لے کر اقتدار میں آیا چونکہ مرسی کی منتخب حکومت کو ایک فوجی جرنیل السیسی نے ختم کر دیا تھا السیسی کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے UAEاور سعودی عرب نے 8ارب ڈالر دیے،وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ ہم close watchکر رہے ہیں چونکہ مرسی نے اسرائیل کے خلاف ایک شدید پالیسی اپنائی ہے کہ؛دو ریاستی حل فلسطینی زمینوں کے وحشیانہ غاصبوں کے ذریعے ایک من گھڑت فریب کے سوا کچھ نہیں ہے؛ اس لیے مرسی کی حکومت ختم کر دی گئی ہے وہ ایک   کے اندر ڈھلتا جا رہا ہے،معزولی کے بعد مرسی کو تورا جیل میں رکھا گیا قرآن مانگنے پر انکار کر دیا جاتا،نظر بندی کا جائزہ لینے والے پینل جس میں برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ اور سینئر وکلا شامل تھے پینل نے نوٹ کیا کہ مرسی کو ناکافی طبی دیکھ بھال ملی اسکے علاج کو ظالمانہ،غیر انسانی اور ذلت آمیز قرار دیا گیا،مرسی شیشے کے ڈبے میں دوران سماعت گر گئے اور بعد ازاں دل کا دورہ پڑنے پر ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ان کے آخری الفاظ تھے؛مجھے میرا ملک عزیز ہے چاہے مجھ پر ظلم کیا جائے۔مصر کی سرزمین نے ایک اور شہیدامت مسلمہ کو تحفے میں دیا، مصر کو کنٹرول کرنے کی خواہش تمام عرب ممالک کے اندر موجود ہے عربیوں کی مشترکہ رائے ہے کہ یہاں کوئی انقلاب نہیں آنا چاہیے اس کی وجہ نبیﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جزیرہ نما عرب اس وقت تک خراب نہیں ہو گا جب تک مصر خراب نہیں ہو گا۔

یہاں ایک ٹیبل کے ذریعے عمران خان کی جیل میں رہنے کی مدت کو اُردو میں آسان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، موجودہ دستیاب معلومات کے مطابق:

مدت / واقعہتفصیل (اردو)ریفرنس / وضاحت
پہلی گرفتاری (9 مئی 2023)عمران خان کو 9 مئی 2023 کو گرفتار کیا گیا تھا، مگر صرف چند دن (تقریباً 4 دن) جیل میں گزارے کیونکہ انہیں ضمانت مل گئی۔(The News International)
بیرونی ضمانت اور رہابعد میں کچھ مقدمات میں ضمانت ملی اور رہائی ہوئی، مگر وہ مستقل طور پر رہا نہیں رہے۔(The News International)
بڑی گرفتاری – 5 اگست 20235 اگست 2023 کو توشہ خانہ مقدمے (اور دوسری قانونی کارروائیوں) کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ وہ آٹو میٹک طور پر جیل میں رہے۔(AAJ News)
اڈیالہ جیل (اصل قید)1 ماہ 21 دن اٹک ڈسٹرکٹ جیل میں قید کے بعد وہ اڈیالہ جیل، راولپنڈی منتقل ہوئے جہاں وہ مسلسل قید میں ہیں۔(AAJ News)
ایک سال مکملعمران خان نے اڈیالہ جیل میں 1 سال (365 دن) مکمل کر لیے۔(Aaj English TV)
21 ماہ تک قید (تقریباً 630 دن)رپورٹس کے مطابق انہوں نے 21 ماہ (تقریباً 630 دن) جیل میں گزارے ہیں (جس میں سیکیورٹی و دیگر انتظامات شامل ہیں)۔(AAJ News)
حکم: 14 سال قید (190 ملین پاؤنڈ کیس)احتساب عدالت نے القادری یونیورسٹی/190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی ہے — جو ابھی چل رہی ہے۔(AAJ News)

مجموعی صورتحال: عمران خان کی جیل کی موجودہ اصل قید 5 اگست 2023 سے شروع ہوئی، جو اب تک کئی مہینوں (630+ دن تک) جاری ہے، اور عدالت نے انہیں 14 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

کالم کے عنوان؛اک دیا جل رہا تھا حوالات میں؛ پر واپس آتے ہیں  اگر بات آج کے دن تک کی ہو تو پرنٹ میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر طرف ایک ہی خبر ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے متعلق 20 نکاتی ایجنڈے پر8 اسلامی ممالک کا لبیک کہنا اور ہماری جلد باز رضا مندی اور اسحاق ڈار کا سجدہ سہو (سر اٹھا کر جینے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جبکہ سر جھکانے کا معاوضہ ملتا ہے،چی گوویرا)دوسری طرف دہائیوں سے یہودی ایجنٹ کہلانے والے عمران خان کے اسرائیل بارے موقف میں کبھی جھول نظر نہیں آیا کہتے ہیں؛میں نے امریکہ سمیت ہر فارم پر واضح کیا ہے کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل تک اسرائیل کو ہر گز تسلیم نہیں کرے گا ہم قائد اعظم کے اس بیان کے ساتھ کھڑے ہیں کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔ماضی قریب میں عمران خان کی سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات مفاہمتی سطح پر لانے کی کوششیں اسرائیل کی ناراضگی کا باعث بنیں جس کی قیمت کال کوٹھری کی صورت میں چکائی جا رہی ہے۔

                            میں انقلاب  پسندوں کی اک قبیل سے ہوں، جو حق پہ ڈٹ گیا اس لشکر قلیل سے ہوں                                      میں یوں ہی دست و گریباں نہیں زمانے سے، میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں 

Exit mobile version