Site icon tazzakhabren.com

Fifth season is Smog پنجاب اس وقت انسانی صحت کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے

Fifth season is Smog پنجاب اس وقت انسانی صحت کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے

Fifth season is Smog پنجاب اس وقت انسانی صحت کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

شہنشاہ ہند نور الدین جہانگیر کی ملکہ نور جہاں کو لاہور بہت پیارا تھا آج لحد میں ملکہ عالیہ کا دم گھٹ رہا ہو گا،آج صبح کے وقت لاہور شہر میں ایئرکوالٹی انڈکس 500ریکارڈ ہوا، عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے باغوں کے شہرلاہورکو نئی دہلی ڈھاکہ اور بیجنگ جیسے بدنام حریفوں میں نا صرف پہلا نمبر دیا ہے بلکہ ہماری مستقل مزاجی پر تازیانہ بجایا ہے کہ گزشتہ چار برسوں سے اکتوبر نومبر کے مہینے لاہور میں سب سے آلودہ ثابت ہو رہے ہیں۔چین میں آلودگی پر قابو پانے کی ٹھوس کوششوں کے باوجود شین یانگ اور زینگٹائی اب بھی ہوا کے خطرناک معیار سے دوچار ہیں بنگلہ دیش میں ڈھاکہ بیلگام ٹریفک اور گنجان آبادی کے ساتھ ہماری جیسی تباہی دیکھ رہا ہے۔  

محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق سات کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آلودہ ہوائیں نئی دہلی سے چندیگڑھ اور امرتسر کے راستے لاہور میں داخل ہو رہی ہیں لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ جہاں کی ہوا اتنی آلودہ ہے وہ فضائی آلودگی کی دوڑ میں سر فہرست نہیں بلکہ اس سے یہ اعزاز لاہور نے چھین لیا ہے  لاہور میں زہریلی ہوا سے پھپیھڑوں اور آنکھوں کے امراض میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے،شہریوں کی اوسط عمر میں نو ماہ کی کمی واقع ہو رہی ہے،ماہرین صحت کے مطابق اگر لاہور شہر کا کوالٹی انڈکس پر خطر ہندسے پر برقرار رہا تو لاہور میں پیدا ہونے والا ہر بچہ دس سال کی متوقع عمر سے محروم ہو جائے گا پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے صوبے میں سموگ کے بڑھتے خطرات کا الرٹ جاری کر دیا ہے

نیزماحولیاتی آلودگی پاکستان کو ہر سال مجموعی قومی پیداوار کا چھ فیصد نقصان پہنچا رہی ہے،بد قسمتی سے موثر اقدامات کی عدم موجودگی نے اس بحران کو معمول بنا دیا ہے جو ہمارے ماحولیاتی معاشی اور سماجی نظام کی ناکامی کا آئینہ ہے،نتھرا پانی، ستھری فضا، محفوظ ماحول صرف ایک نعمت نہیں بلکہ انسانی بقا کی بنیادی شرائط ہیںدرج بالا حقائق کی روشنی میں پنجاب اس وقت انسانی صحت کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن حکام بالا حقیقت سے صرف نظر پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہروں کی روانی کے قصے سنا رہے ہیں 

وزیر تعلیم سموگ کے خاتمہ کے لیے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں تو سینئر وزیرماحولیات فرماتی ہیں کہ؛ پلاسٹک کے استعمال کے اوپر 75 میکرون سے کم کا استعمال ممنوع ہے،فصلوں کی باقیات جالنے کی بجائے سپر سیڈر مشینری مہیا کی گئی ہے یہ پہلے کبھی نہیں ہوا،صرف کہا جاتا تھا بیٹوں سے کالا دھواں نکلتا ہے تو اس کا کوئی علاج کرنا تھا نہ تو ہم نے آکر علاج کیا،ہم شرط لگا کر دکھاتے ہیں کہ لاہور کے اردگرد بھٹے میں سے کالا دھواں دکھائیں بھٹوں میں کیو آر کوڈ لگ چکے، چمنیوں میں کیمرے لگ چکے، سموگ کینن سے سموگ کی روک تھام کا عمل یقینی ہے، ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں سموگ کا تدراک،یہ ٹائم لائن بیجنگ جیسی جگہوں سے کم ہے(چین کو ہم سے سبق سیکھنا ہو گا)

اب ذرا حقیقت جانیے عید الضحیٰ کے بعد سڑکوں کو عرق گلاب سے غسل دینے والوں نے شہر بھر میں سموگ پر قابو پانے کے لیئے ایک دو نہیں پوری پندرہ توپوں کا اہتمام کیا ہے چشم تصور سے دیکھئے تو ایسی ہی توپیں ہوں گی پانی پت کے میدان میں جن کی بدولت ظہیر الدین بابر نے ابراہیم لودھی کی ایک لاکھ فوج کو دھول چٹائی،اب ساڑھے چار کروڑ کی ایک توپ جب ساڑھے تین لاکھ لیٹر پانی کے گولے لاہور کی سڑکوں پر داغے گی تو سموگ کا انجام لودھی کی فوج جیسا ہی ہو گا (آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پانی کی کمی کا شکار تیسرا ملک اور پانی کے ضیاع مین چوتھے نمبر پر ہے)معروف اخبار ڈان نے گزشتہ روز اپنی سٹوری میں دعویٰ کیا ہے کہ سموگ کینن سموگ میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث ہیں چین میں سموگ کینن کے استعمال سے پہلے اور بعد میں معائنہ کیا گیا تو پتہ چلاخطرناک ذرات کی تعداد 25 سے 35 منٹ بعد 13% بڑھ گئی ہے وجہ یہ تھی کہ فضا میں شامل اضافی پانی نے وہ کیمیائی عمل تیز کر دیاجو مزید باریک ذرات پیدا کرتا ہے یعنی کینن نے فضا صاف نہیں کی بلکہ مزید آلودگی پیدا کرنے کی راہ ہموار کی ہے،تحقیق تو ہم نے کیا کرنی تھی سموگ کینن کی تشہیر پر ہی کروڑوں لگا دئیے گلے علیحدہ خشک ہوئے

                                                   کارخانوں کی ادھاری چمنیوں سے کیا ملا,دھند کچھ برطانیہ کی کچھ دھواں جاپان کا                        

Exit mobile version