“Extension”کیا ہم کبھی ایکسٹینشن جیسے ناسور سے چھٹکارا پا سکیں گے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں وہاں ایکسٹینشن نامی ناسور ہمارے نظام کے لیے زہر قاتل ثابت ہوا ہے ایکسٹینشن انگریزی زبان کا لفظ ہے جس میں دینے والی کی کم مائیگی اور لینے والی کی بالا دستی نمایاں ہے یعنی ایک بہ منت و سماجت دوسرا بزور بازو،ایکسٹینشن لینے والے مرزا غالب کےاس شعر کی عملی تصویر دکھائی دیتے ….. گو ہاتھ کو جنبش نہیں،آنکھوں میں تو دم ہے، رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے تاریخ میں جھانکیے
سقوط ڈھاکہ ((1971جنرل ایوب اور جنرل یحییٰ ڈکٹرائن کے سبب پاکستان دو لخت ہوکر مشرقی اور مغربی حصّوں میں تقسیم ہوا،ہم نے لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیارڈال دیے،اس وقت کے آرمی چیف مانک شاہ کا سینہ تمغوں سے بھر دیا گیا بھارت صدر وی۔وی گری کیجانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں چھ ما ہ کی توسیع کا اعلان کیا گیا، مانک شاہ نے معذرت کرنا چاہی لیکن یہ کہ کر توسیع قبول کر لی کہ میں اپنے سپریم کمانڈر کی حکم عدولی نہیں کر سکتا،جبکہ جنرل اروڑہ بطور لیفٹیننٹ جنرل ہی ریٹائر ہو گئے۔پاکستان میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع ہمیشہ سے ہی ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے۔پاکستان کے دستور میں آرمی چیف کی مدت ملازمت تین سال مقرر کی گئی ہے لیکن یہ ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر ممکن نہ ہو سکی ۔
پاکستان میں ایکسٹینشن کی درخشاں روایت: پاکستان میں ایکسٹینشن کی درخشاں روایت جنرل ایوب سے شروع ہوئی،جنرل صاحب نے اپنے اقتدار کو 7سال 284 دن تک طوالت بخشی، جنرل موسیٰ 7 سال325 د ن،کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ5 سال 93 دن، جنرل گل حسن 2 ماہ،جنرل ٹکا خان 3 سال 364 دن،1977 میں جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا اور انکے اقتدار کا سورج 12 سال169 دن تک چمکتا رہا،جنرل پرویزمشرف کو جب29 مئی 2007 کو وردی اتارنے پر مجبور کیا گیا تو انکی مدت ملازمت 9 سال 53 دن تھی۔ان تمام جنرل صاحبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ پہلے بطورچیف آف آرمی سٹاف اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور پھر فیلڈ مارشل کی حیثیت سے ملک کے سیا و سفید کی مالک بنے رہے، ان جرنیلوں کو ایکسٹینشن کا کوہ گراں سر کرنے میں 36 برس لگے حالانکہ مستفید 12 چیفس نے ہونا تھا۔
منتخب حکومت کے ذریعے انتخاب: جنرل اشفاق پرویز کیانی 29)نومبر 2007-13 (نے آٹھویں چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں، 24جولائی 2010 کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے باغی تنظیموں کے خلاف جنگی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اسی طرح کی حمایت حاصل کی اور مسلسل چھ سال تک بطور آرمی چیف خدمات انجام دیتے رہے،شنید ہے کہ حالیہ آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دینے کی خواہش مسلم لیگ نون کے دل میں زور و شور سے مچل رہی ہے۔
عدلیہ میں ایکسٹینشن: پاکستان کے دستور کی شق 179 کے مطابق سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال جبکہ آئین کی شق 195 کے مطابق ہائیکورٹ کے جج 62 سال کی عمر میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔
آرٹیکل 179 اور 195 میں ترمی: جنرل پرویز مشرف نے عنان اقتدار سنبھالتے ہی 2002 میں آرٹیکل 179 اور 195 میں ترمیم کر کے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی لیکن جب متحدہ مجلس عمل کے ساتھ مفاہمت کا پودا پروان چڑھا تو ڈکٹیٹر نے اپنی ایکسٹینشن بچانے کے لیے ان ججوں کی قربانی دے دی اور ججوں کو دی گئی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع واپس لے لی یوں سپریم کورٹ کے چار اور ہائیکورٹ کے پانچ مائی لارڈز کی آرزوؤں کا خون ہو ا اور ایکسٹینشن کا پودہ پروان نا چڑھ سکا،
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ
پاکستان میں من پسند ججوں کو ایکسٹینشن دینے کی دوسری کوشش2019 میں کی گئی جب عدلیہ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے حکومتی ارکان پارلیمنٹ امجد خان نیازی اور سید فخر امام نے قومی اسمبلی میں ایک بل پاس کروایا کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی ریٹایرمنٹ کی عمر 65 سے بڑھا کر 68 سال اور ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی مدت ریٹائرمنٹ 62 سے بڑھا کر 65 سال کر دی جائے، ملائیکہ بخاری جو اس وقت وزارت قانون و انصاف کی پارلیمانی سیکریٹری تھیں وہ بھی اس گناہ میں برابر کی شریک رہیں۔بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی لیکن مسلم لیگ نون کی حمایت حاصل نہ ہو سکی،اس دوران حکومت بھی بیک فٹ پر چلی گئی اب جسٹس آصف سعید کھوسی نے عدالتی اختیارات کی طاقت دکھانے کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کو معطل کر دیا اسکے بعد کا تماشہ قوم نے خوب دیکھا۔مسلم لیگ نون نے ایک چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینے سے انکار کیا تو دوسرے آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے قبیح فعل میں شراکت دار رہی۔طرفہ تماشہ کہ مسلم لیگ جو 2019 میں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی مدت بڑھانے کی مخالت کر رہی تھی اب فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن دینے کی خواہاں ہے۔قصہ مختصر سب کے اپنے اپنے کھیل اور اپنی اپنی جیت ہے،عوام، ملک،معیشت، سیاسی استحکام جائے بھاڑ میں۔

