Site icon tazzakhabren.com

Daughter of Empire Edwina Mountbatten وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی دوستی کے چرچے 

Daughter of Empire's Life as Edwina Mountbatten:بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی دوستی کے چرچے

Daughter of Empire’s Life as Edwina Mountbatten:بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی دوستی کے چرچے………..ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

لوئس  فرانسس البرٹ وکٹر المعروف لارڈ ماؤنٹ بیٹن برطانوی سیاستدان،ملکہ وکٹوریہ کا نواسہ، برطانوی بحری فوج کا افسر،برطانوی شہنشاہ جارج ششم کا کزن اور متحدہ ہندوستان کا آخری وائسرائے جبکہ آزاد بھارت کا پہلا گورنر جنرل تھا۔ہندوستان کی تقسیم کے فارمولے پر لارڈ کرزن کی ناکامی کے بعد وزیر اعظم ا یٹلی نے ماؤنٹ بیٹن کو یہ بھاری ذ مہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا  لوئس وکٹر نے کمال مہارت سے اس کارنامے کو انجام دیا،شاہی خاندان آج بھی ماؤنٹ بیٹن کی ان خدمات کو نہیں بھولا شہزادہ ولیم کے ہاں پیدا ہونے والے تیسرے بچے کا نام لوئس آرتھر چارلس رکھا گیا جو ماؤنٹ بیٹن کا اصل نام ہے،ماؤنٹ بیٹن کو 27 اگست 1979میں آئرش علیحدگی پسندوں نے ایک حملے میں قتل کر دیا تھا جب وہ آئرلینڈ کے ساحلی علاقے میں اپنی کشتی پر مچھلی کے شکار کے لیے نکلے تھے اس وقت ان کی عمر 79 برس تھی۔

Daughter of Empire’s Life as Edwina Mountbatten

ایڈوینا سنتھیا ایشلے اپنے خاندان کی بڑی بیٹی تھیں ان کے والد برطانوی کابینہ کے رکن تھے ان کا شمار یورپ کے ا میر ترین اور طاقتور ترین اشخاص میں ہوتا تھا،ایشلے کی تعلیم کے لیے بورڈنگ اسکول کا انتخاب کیا گیا، ایڈوینا ایشلے نے پہلی بار 1920 میں لوئس ماؤنٹ بیٹن سے کلیریج کے ہوٹل میں ایک گیند پر ملاقات کی اس وقت تک وہ لندن سوسائٹی کی ایک امیر رکن تھیں ایڈوینا نے اپنا 300 ملین پاؤنڈ کا محلاتی لندن ٹاؤن ہاؤس،بروک ہاؤس ایسے وقت میں چھوڑا جب اس کے شوہر کی رائل نیوی لیفٹیننٹ میں تنخواہ  723 پاؤنڈ تھی،ایشلے اور ماؤنٹ بیٹن کی شادی 18 جولائی 1922کو سینٹ مارگریٹ ویسٹ منسٹر میں ہوئی،لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی دو بیٹیاں  تھیں  پیٹریشیا اور پامیلا,مارچ1947 کے دھندلے موسم میں ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اپنے شوہر کے ساتھ ہندوستان آئیں،ایڈوینا کو ایک انٹروورٹڈ عورت کے طور پر  بیان کیا گیا۔نہرو ماؤنٹ بیٹن گٹھ جوڑ کے حوالے سے مائیکل بریچر نے پنڈٹ نہرو کی آپ بیتی  قلم بند کرتے ہوئے لکھا وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی ذاتی تعلقات کے حوالے سے جواہر لال نہرو سے گہری دوستی قائم کرنا انکی بہت بڑی سیاسی کامیابی تھی جس کی مثال ہندوستان میں برطانوی راج کی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی اسی دوستی کے صلے میں ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا پہلا گورنر جنرل بنا دیا گیا،

بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی دوستی کے چرچے اس وقت میں سنے جانے لگے جب لارڈ بیٹن خاندان واپس برطانیہ جانے کی تیاری کر رہا تھا،اندرونِ ملک ہونے والی تقریبات میں لیڈی ماؤنٹ بیٹن اکثر نہرو کے ہمراہ پائی جاتی تھیں مشہور مصنٖف سٹینلے والپرٹ لکھتے ہیں انہوں نے نہرو اور ایڈوینا کو دہلی کی للت کلا اکیڈمی میں ایک پروگرام کی افتتاحی تقریب میں دیکھا تھا  انہیں ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کرنے سے کوئی پرہیز نہیں تھا،شملہ میں ہونے والی نہرو ایڈوینا ملاقات کا شہرہ پوری دنیا میں سنا گیا، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اپنی اہلیہ اور نہرو کی دوستی سے واقف تھے لیکن انہوں نے کبھی مداخلت نہیں کی،ایڈوینا اور نہرو کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ ایڈوینا کے برطانیہ منتقل ہونے کے بعد بھی جاری رہا،لیڈی بیٹن نے اس رشتے کو اپنے شوہر سے خفیہ رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی

تقسیم کے بعد نہرو نے برطانیہ کا دورہ کیا اور ہیمپشائر میں لیڈی ماؤنٹ بیٹن کے ہاں بطور مہمان ٹھہرے۔ لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی موت کے بعد انکی بیٹی پامیلا نے اپنی ماں اور نہرو کے درمیان خط و کتابت پڑھی پامیلا کا کہنا تھا کہ نہرو اور ایڈوینا ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے  2012 میں شائع ہونے والی کتابDaughter of Empire:Life as a Mountbaten  کے مطابق پامیلا نے دعویٰ ہے کہ لیڈی ماؤنٹ بیٹن اور نہرو محبت میں تھے ان میں جذباتی اور گہرا رشتہ تھا جو اوسط آدمی کی سمجھ سے بالا تر تھا۔ہالی ووڈ نے؛انڈین سمر؛ کے نام سے ایک متنازعہ فلم جاری کی جس میں لیڈی ماؤنٹ بیٹن اور پندٹ جواہر لال نہرو کی دوستی کو موضوع بنایا گیا 

               اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر، بے پیے بھی تیرا چہرہ تھا گلستان جانا 

آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں، رگ مینا سلگ اٹھی کہ رگ جاں جاناں 

 جس کو دیکھو وہی زنجیر وپا لگتا ہے، شہر کا شہر ہوا داخل ِزنداں جاناں 

ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی کیا سمجھ رکھا تھا، غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں 

 ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو منا لیتے تھے،ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں 

 ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ر یزہ ریزہ،جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں جاناں 

Exit mobile version