Site icon tazzakhabren.com

Combined Punjab: سال 1947خونی لکیر کھینچ گیاتاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہو

Combined Punjab: سال 1947خونی لکیر کھینچ گیاتاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہو

Combined Punjab: سال 1947خونی لکیر کھینچ گیاتاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہو,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

     تاریخ: پنجاب کی تاریخ دنیا کی قدیم ترین شہری ثقافتوں کی حامل وادی سندھ،کی تہذیب سے ملتی ہے جو ۰۰۰۳ قبل مسیح کے آس پاس اس خطے میں پروان چڑھی یہ علاقہ اپنی زرخیز زمین اور تزویراتی محل وقوع کی بدولت مختلف سلطنتوں کے لیے ایک انعام رہا۔ یہ خطہ؛  سپت سندھو؛یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کے نام سے جانا جاتا تھا۔پنجاب سکندر اعظم،چندر گپت موریہ،یونانی،ساگالہ،عربوں،غزنیوں،غوریوں، ترکوں،مغل حکمرانوں سے ہوتا ہوا آخر کار ۹۹۷۱ ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت بنا جو درہ خیبر سے مغربی تبت تک پھیلا ہوا تھا۹۴۸۱ برطانوی راج کا سال تھا جہاں ایک طرف امرتسر میں جلیانوالہ باغ کا خون آشام سانحہ ہوا تو دوسری جانب نہروں کی تعمیر؛ستلج ویلی پروجیکٹ؛کے وسیع منصوبوں کے ذریعے پنجاب کو ہندوستان کے سب سے امیر کاشتکاری کے علاقے میں تبدیل کر دیا گیا۔

بٹوارہ:سال۷۴۹۱ء خونی لکیر کھینچ گیاتاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی پنجاب پھر لقمہ اجل بنا آری درمیان سے چلائی گئی مشرقی پنجاب بھارت جبکہ مغربی پنجاب (راجے رنجیت کی راجدھانی لاہور) پاکستان کے حصے میں آیا، کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ہندوستانی پنجاب کو لسانی بنیادوں پر ۶۶۹۱ میں پھر ادھیڑا گیا اردو بولنے والوں کو ہماچل اور ہریانہ کے علاقے دے دیے گئے۔

پنجاب کے آبی وسائل:  پانچ دریاؤں کی سرزمین،آبپاشی کی قدیم روایات،برطانوی دور کے بڑے نہری منصوبے (ستلج ویلی پروجیکٹ) اور سندھ طاس معاہدے سے نشان زدہ ہے جس کے تحت اہم آبی ذخائر اور لنک کنالز کی تعمیر ہوئی، تین مشرقی دریا (ستلج، بیاس،راوی)بھارت جبکہ مغربی دریا (جہلم،سندھ،چناب) پاکستان کے حصے میں آئے تربیلا،منگلا اور انٹر لنک کینالز اسی تسلسل کا نتیجہ ہیں،بھارت ۴۳۳۵ ڈیم بنانے میں کامیاب ہوا،ہم ابھی تک ۰۵۱ کے ہندسے کو عبور نہیں کر سکے مزید ستم بڑا ڈیم نہ ہونے کے باعث ہم ہر سال ۰۳ ملین ایکڑ فٹ پانی(۹۲ ارب ڈالر مالیت) سمندر میں ضائع کر رہے ہیں۔                   سانجا پنجاب : گزشتہ چند ہفتوں سے پنجاب کے باسی جس سیلاب کو بھگت رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ ہماچل پردیش کے کانگڑہ ضلع میں ڈلہوزی کی پہاڑیوں اوردریائے توی کے سنگم پرواقع جموں میں ہونے والی ریکارڈ توڑ بارشیں ہیں بالائے ستم جب دریائے ستلج کے پانی کو ذخیرہ کرنے والے بھارتی بندآخری حدوں کو چھونے لگے تو بھارت نے وسیع پیمانے پر پانی چھوڑ دیا،دریائے چناب میں ہیڈ خانکی،ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور راوی میں جسٹر کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، قصور سے بہاولپور تک بپھری لہریں تباہی کی داستانیں رقم کر رہی ہیں ۴ کروڑ لوگ آبی آفت سے متاثر ہیں ۵۲ سے زائد اضلاع میں ۰۰۴۱ دیہات زیر آب آچکے، قیامت دونوں طرف یکساں برپا ہے مشرقی پنجاب کے ۰۰۴۱ گاؤں اس وقت ہاڑ پیڑک(سیلاب سے متاثر) ہیں،ہزاروں ایکڑکھڑی فصلیں،پشو،باپو کی امیدیں اورماتا کے سفنے سب بہہ گئے اجتماعی بے حسی بمقابلہ چڑھدی کلاہ: میرے حصے میں چونکہ قلم کی مزدوری آئی ہے،جڑوں سے جڑے،ماں بولی بولنے والے ہمیشہ کشش کا باعث رہے چڑھدے پنجاب کے باسی اس اعزاز کے حامل ہیں، کنگا،کڑا،کرپان،کچھا ّ  پر فخر کرنے والے تو تھے ہی لیکن حالیہ سیلاب میں دو فیصد کی نمائیندگی کرنے والے یودھے ۰۰۱فیصد پر غالب رہے، دوسری جانب جب اپنی بکل (چادر) میں منہ دوں تومن حیث القوم جو جذبہ ۸۹۹۱ کے سیلاب، ۵۰۰۲ کے تباہ کن زلزلے پھر ۰۱۰۲ کے سیلاب میں خون کی گردش تیز کرتاھا۵۲۰۲ کے   آتے آتے اجتماعی بے حسی کی دبیز تہہ تلے دب چکا ہے۔                                                                                                        تلخ حقائق: ستلج،راوی کے تیور بدلنے کی دیر تھی کہ پنجاب کے گردواروں میں اعلانات شروع ہوئے کہ گھر بار،مال مویشی چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لیں،بے رحم موجیں جہاں سب کچھ بہا لے جانے کی ٹھان بیٹھی تھیں وہاں گرو گوبند سنگھ کے سکھ پرماتما کی کرِپا (اللہ کی مدد کے سہارے)سے مدد کو آئے،مقامی سردار تو ایک طرف پنجابی میوزک اور فلم انڈسٹری کے ہنرمندوں نے بندھے ہاتھوں،ہنجو بھری آنکھوں کے ساتھ کمال کر دیا،کیا پتر کار کیا سیاستدان کیا سماج سیوک ہر کوئی سیوا(خدمت) میں مصروف،شرومنی اکالی دل کے لیڈر سردارسکھبیرسنگھ بادل ۰۰۰۳ لیٹر ڈیزل اور کیش لے کر ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقے میں پہنچے صحافی کے سوال پر کہ بادل صاحب اے کنے ّپیسے نے؟ جواب آیا؛بی با اے سما(ٹائم) حساب کرن دا نئی،سیوا کا سلسلہ ہنوذ جاری ہے۔ کانگرس،بی جے پی،عام آدمی پارٹی کے نیتا جماعتوں سے اوپر اٹھ کرفیلڈ میں رہ کر دکھ سانجا کرنے میں مصروف ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب بھگوانت سنگھ مان خرابی صحت کے کارن ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں انہوں نے وہاں سے ویڈیو لنک کے ذریعے کسانوں کے قرضے اور بجلی کے بل معاف کرنے کا اعلان کیا ہے،برطانیہ سے سکھ پائیلٹ چھٹی لے کر پنجاب پہنچا اپنے بیان میں کہا؛جدوں میں ہاڑ بارے سنیا میرا اپنے کم وچ دھیان نا لگا میں باس کو چھٹی لے کے پنجاب آگیا آں،پنجابی سنگر و ایکٹر دلجیت دوسانج  اور امرندر سنگھ نے دو دو سو(۰۰۴) گاؤں ایڈاپٹ کیے ہیں دلجیت کی مینجر سونالی سنگھ اپنی ٹیم کے ہمراہ فیلڈ میں مصروف ِ عمل،ہالی ووڈ ایکٹر رندیپ ہودا،سونو سود کندھوں پر راشن کی بوریاں اٹھائے سیوا کر رہے ہیں،ایمی ورک نے ۰۰۲ خاندان اپنے ذمہ لیے ہیں،وکی کوشل ایمبولینسز لے کر پہنچ رہے ہیں تو گورو رندھاوا نے اپنے مالٹا میں ہونے والے شو کی تمام کمائی ہاڑ پیڑک پنجابیوں کو دھان کی ہے،راج کندرا نے اپنی حالیہ رہلیز ہونے والی فلم کی پہلے دن کی کمائی واہے گرو کے نعرے کے ساتھ سیوا میں لگائی ہے جسبیر جسی،سمرن سنگھ مکڑ کے ساتھ پہلےدنسےانتظامیسرگرمیوںمیںمصروف،سونندہشرما،نمرتکھیرااپنیہمتسےردوںکوشرمارہیہیں،راشن،بستر،چارہ،ادویات،کیش،انرجی سیور کے ٹرکوں کی لمبی  قطاریں ہیں،سنگر ملکیرت اولکھ نے ۵ کروڑ  کے ساتھ ۰۰۱ ٹریکٹردھان کیے ہیں مسلسل خدمت میں مصروف،پنجابیوں کو حوصلہ دیتے ہیں کہ پنجاب زخمی ضرور ہے پر ہریا نئی، سدھو موسے والا مرحوم کے والد بلکورسنگھ ۱۱ کروڑ کے علاوہ بستروں ادویات کے ساتھ پیرانہ سالی کے باوجود میدان میں ہیں،سب سے حیران کن مرحلہ تب دیکھنے میں آیا جب بغیر کسی سرکاری مدد کے پنجاب کے بیٹوں نے ستلج کے پانی کے آگے بند باندھ کر امرتسراور دیگر دیہات کو ڈوبنے سے بچا لیا،کسان اندولن کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب دنیا نے پنجابیوں کو یک جان دیکھا،امرتسر کی ڈی سی ساکشی سہنا کی سیوا فرض سے کئی گنا اونچا درجہ لے گئی کندھوں پر خود سامان ڈھو رہی ہے عورتوں کو ہسپتالوں میں لے کر جا رہی ہے شکرانے کے جواب میں؛اے تے میرا فرض اے مے کج وود نئی کیتا؛اب کچھ اپنی بپتا! بلاشبہ دردمند دل ہمارے پاس بھی ہیں خدمت کے جزبے سے ہم بھی سرشار ہیں پر تھوڑے ہیں اجتماعی بے حسی غالب ہے مٹھی بھر لوگ  اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں،سرکاروں کی بات کی جائے تو کوئی سکھ بیر بادل جیسا ہمارے نصیب میں نہیں، سی ایم مان جیسا دردمند ناپید ہے (بشری کمزوریوں سے اوپر اٹھ کر) ایک طرف ساکشی سہنی ہے تو دوسری طرف ہمارے شکر گڑھ کے ڈی سی صاحب جو دو روٹیاں سالن ایک سیب،دو کیلے دے کر یاد کروانا نہیں بولے؛اے ولا کنے بھیجے نے؟ مریم نواز نے،قہر ہے کہ برس رہا ہے!ہماری دلچسپیوں میں کشتی رانی، فوٹو سیشن، ٹرانشیل رین،دریاؤں کے سٹریس،۰۰۸ نئے ڈیم کے اعصاب شکن اعلانات،بستر،کپڑوں اور پائی پائی کے محتاج لوگوں میں انسلے کپڑوں کی تقسیم، ہوائی دعووں سے ہوتے ہوتے بریانی کھادی سی،وچ بوٹی ہے سی،فلڈ ریلیف کیمپوں،راشن،چارے،بچوں کے کھلونے،مسجدوں اور اب عید میلاد النبی کے بینروں پر تصویری نمائشوں تک، المیہ ہی المیہ پاک سر زمین پر۔آخر میں توں کنا کیتا اے نقصان پانیا،اکھراں چہ ہووے نا بیان پانیا۔۔۔۔توں تا سرکاراں تو وی اتے سی،تو نا ڈول ایمان پانیا۔۔۔تینو تے رب دا درجہ دتا سی، توں بندا جانا اے حیوان پانیا   

Exit mobile version