Busheedo”Japan’s Code of Life:مخلص قیادت نے قوم کو ؛بوشیدو؛کے نام سے ایک فلسفہ حیات دیا یعنی کسی کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
جاپان تاریخ کے آئینےمیں:۔ا۴۱۶۱ء سے ۴۵۸۱ تک کا عرصہ شمار کریں تو ۴۱۲ سال بنتے ہیں یہ دور یورپی طاقتوں کے عروج کا دور تھا،کبھی تجارت اور کبھی تبلیغ کو ہتھیار بنا کر انگریز فرانسیسی،ولندیزی،ہسپانوی اور پرتگیز دنیا کے کئی ممالک میں داخل ہو کر ان پر قبضہ جما رہے تھے ۹۰۶۱ء میں ہالینڈ کے تاجروں نے جاپانی شوگن بادشاہوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ سپین اور پرتگال جاپان پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں بادشاہ ان کے ارادے کو بھانپ گیا بیرونی تاجروں کو پورے جاپان کی بجائے صرف ناگاساکی تک تجارت کی اجازت دی ۳۱۶۱ء میں برطانیہ نے بھی قبضے کی خواہش کے زیر اثر جاپان کی طرف پیش قدمی کی لیکن یونین جیک والے بھی صرف ناگاساکی تک محدود کر دیے گئے بیرونی تاجر سادہ لوح جاپانیوں کو عیسائیت کی تعلیم دیتے اور پاپائے روم کے وفادار بناتے۹۷۵۱ء کا سال جاپان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوا شوگن بادشاہ اس نہج پر پہنچ چکے تھے
کہ اب پنّہ پلٹنا ہے کہ کتاب ہی بند کرنی ہے سو ۶۲ پادریوں کو سزائے موت سنا دی گئی۵۳۶۱ء میں شیمابارا میں تیس ہزار عیسائیوں کو قتل کر دیا گیامقامی لوگوں کے ملک سے باہر جانے پرپابندی لگا دی گئی،۱۴۶۱ء تک دنیا بھر کے تمام ممالک کی تجارتی گودیاں بند کر دی گئیں اب جاپان تھا اور اسکے اپنے وسائل،قارعین یہاں سے ایک نئی خود مختار قوم نے جنم لیا زرعی زمینوں میں اضافہ ہوا ملک کے چپے چپے پر صنعت و حرفت کا جال بچھنے لگا،ماہی گیروں نے بندرگاہوں کو اپنے تابع کیا،ٹوکیو شہر دنیا کی گنجان آبادی والا شہر بن گیا،اوساکا جاپان کا باورچی خانہ کہلایا،کوتو شہر نے آرٹسٹوں کو بام عروج پر پہنچا دیا،سر جھکائی قوم نے اپنی نگاہیں آسمان کی وسعتوں کو تسخیر کرنے پر جما دیں،اعلیٰ دماغ مخلص قیادت نے قوم کو ؛بوشیدو؛کے نام سے ایک فلسفہ حیات دیا یعنی کسی کے اعتماد کو ٹھیس نہ ہنچائیں اور نہ ہی کوئی ایسا کام کریں جو شرمندگی کا باعث بنے۔
آج کا جاپان:۔عالمی انسانی ورثے سے ناآشنا جاپان کی سرزمین صدیوں تک مصر کے ماہرین تعمیرات،بابل و نینوا کے اصول حکمرانی،روم کی شہنشاہی،یونان کے فلسفیوں اور ہند کے دیو مالا ئی قصوں سے ناآشنا رہی یہاں تک کہ علوم انسانی کی تاریخ مرتب کرنے والے بھی اس خطے کا ذکر نہیں کرتے،متضاد اس کے کہ جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے دو ایٹم بم سہے، اٹھتر سال گزرنے کے باوجود نہ تو اس کی اپنی فوج ہے نہ ایئر فورس اور نہ نیوی، مالی ذخائر ۷۱۱۱ بلین ڈالر کے ساتھ دنیا کی چوتھی اقتصادی طاقت،ہر سال دنیا سے۰۰۵۱ بلین کی تجارت کرتا ہے،جاپان ۵۴۹۱ کے بعد کسی سے نہیں لڑا چین اور کوریا کے ساتھ سرحدی اور نظریاتی تنازعے ہیں لیکن تجاری روابط ٹوٹنے نہیں دیے دونوں جانب سرحدیں کھلی ہیں،بچوں کو دیکھ کر ٹریفک رک جاتی ہے پورا ملک ٹائم کا پابند ہے،اسکول اور کالج انہیں ہنر مند بنا کر بھیجتے ہیں،پورے ملک میں کوئی بھی آپ کو اکڑی،تنی ہوئی گردن کا جاپانی نہیں ملے گا بلکہ عاجزی میں آپ کے سامنے جھکے چلے جاتے ہیں،چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں ہنڈا کمپنی کے مالک کا گھر ۶۱ مرلے کا ہے وہ اپنے گھر کی صفائی خود کرتا ہے آپ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ گاڑیوں میں ہارن نہیں لگائے جاتے،جاپان بزنس فرینڈلی ملک ہے کوئی کاروبار بند نہیں ہونے دیتا، خوراک سادہ اور کم مقدار میں ہوتی ہے،سارے ملک میں صرف ۹ ٹی وی چینل ہیں جن پر سیاسی سے زیادہ سماجی خبریں نشر ہوتی ہیں۔
نئے سال پرنائیٹ کلب جانے کی بجائے لوگ ٹیمپل جاتے ہیں جاپانی دعاؤں سے نئے سال کا آغاز کرتے ہیں جاپان صفائی کے معاملے میں پوری دنیا کا امام ہے۔پورا جاپان رات آٹھ بجے سو جاتا ہے،جاپان میں چار عادتیں کامن ہیں ۱: نا جھوٹ بولتے ہیں نا فراڈ کرتے ہیں ۲:مقام اور فاصلے کی تبدیلی سے نرخ تبدیل نہیں ہوتے،ایئر پورٹ اور دور دراز گاؤں کی عام دوکان سے ایک ہی نرخ پر اشیا مل جاتی ہیں ریٹ فکس ہیں بھاؤ تاؤ کا کوئی چکر نہیں ۳: قدرتی آفت یا حادثہ کی صورت میں لیٹ ہو جائیں تو شدید ڈپریشن کا شکار ہو کر اونچی آواز میں رونا شروع کر دیتے ہیں ۴:جاپانی حیا میں بھی لاجواب ہیں خواتین اور مرد خاص فاصلے پر رہتے ہیں،جانوروں کو شہروں سے باہر فارم ہاؤسز میں رکھا جاتا ہے باڑے میں صفائی کے لیے جدید ترین مشینیں نصب ہوتی ہیں۔انگریزی زبان سے نا آشنا ہونے کے باوجود انکی جامعات عالمی معیار کی ہیں۔میرے پاکستانیو! اتنی لمبی تمہید باندھنے کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہے اور وہ یہ ہے کہ قوم کے سامنے ایک واضح روڈ میپ رکھا جائے جو نشاندہی کرے ان کے آنے والے کل کی،جو نوید سنائے ایک روشن مستقبل کی،ہماری وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے حالیہ دورہ جاپان کے بعد قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ پنجاب کو جاپان کی طرز پر ٹیکنالوجی کی بلندیوں تک لے جانا چاہتی ہوں،یوکوہاما پورٹ کے اجلے نکھرے شفاف پانیوں نے تو وزیر اعلیٰ کا دل ہی موہ لیا،موقع پر ہی لاہور کو یوکوہاما کی طرز پر ترقی دینے کا اعلان کیا (شائد وہ قبولیت کی گھڑی تھی) لگتا ہے بھارت کو بھی ہمارے ارادوں کی بھنک پڑ گئی تھی،راوی کی بپھری لہریں ہر جانب یوکوہاما کا منظر پیش کر رہی ہیں۔
گزشتہ سو سال سے جاپان میں ڈیری کا کام کرنے والی کمپنی موریناگا کی طرز پر پنجاب میں ڈیری کے شعبے میں انقلاب برپا کریں گے،جاپان کے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم سے ہماری چیف منسٹر اس حد تک متاثر ہوئیں کہ وطن واپسی سے قبل ہی اس سسٹم کی پنجاب میں ا یمپلمنٹ(لاگو) کی خبر سوشل میڈیا پر نشر کروا دی، ترجمان پنجاب حکومت کوثر کاظمی صاحب نے تو یہاں تک شفقت فرمائی کہ اس دورہ کو؛پاک جاپان اکنامک کاریڈور؛ منصوبہ قرار دیا۔حکومت نے تواپنی سی کوشش کی،اب یہاں سے قوم کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے کہ وہ لایعنی بحث میں پڑے بغیر کہ جاپان حکومت کی طرف سے صرف ایک شخص مدعو تھا جبکہ وزیر اعلیٰ اپنے ساتھ ۰۳ سے ۰۴ افراد بشمول اپنے،وزیروں کے بچے،ذاتی خدمتگار،کیمرہ مینوں سے میک اپ مینوں تک،قوم کے ۶۱ کروڑ وار دیے صرف ایک نمک کے اسٹال پر،خواجہ آصف کے بقول بھارت نے دو مرتبہ راوی کاپانی کھولنے کی پیشگی اطلاع دی تھی، تحریک انصاف کے رہنما عون عبا س کی۳۱ اگست کو سینیٹ کے فلور پر کی گئی تقریر سوشل میڈیا پر وقفے وقفے سے سنائی دے رہی ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ سیلاب کا آنا یقینی ہے ان ان راستوں سے پانی آئے گا جنوبی پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد اگلی آبی گزر گاہ۔۔۔۔۔لیکن ہمیں پنجاب کو جاپان بنانے کی دھن اس قدر سوار تھی کہ ہم نے کسی طور دھیان ہی نہیں کیا،پانی آنے کی صورت میں محفوظ مقامات کا کیا بندوبست کرنا ہے(ہم تھے کہ راوی میں کشتی رانی کو ہی تمام مسائل کا تریاق سمجھ بیٹھے تھے لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی)
آخری التماس قوم منزل پر نظریں جمائے راستوں کی دھول نہ بنے یہ سوچتے ہوئے کہ بھلا وزیر اعلیٰ نے ایک فرد پر مشتمل پانچ روزہ سرکاری دورہ کو ۳۱ دن تک کیسے طول دیا اور سب سے اہم بات ملک کے عظیم تر مفاد میں دورہ کے آخر میں سی ایم پنجاب نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں سابق وزیر اعظم تھاکسندھشنواترا اور انکی بیٹی پیٹونگ ٹان شنواترا سے ملاقات کی والدکی وجہ شہرت کرپشن کے چارجز،غیر شفاف طرز حکومت، ملکی آئین کی خلاف ورزی، جبکہ پیٹونگٹانگ شنواترا کو عدالت نے دو سات کی اکثریت سے فیصلہ سنا کر وزارت عظمیٰ پر کام کرنے سے روک دیا تھا۶۳ سینٹرز نے ان کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کروائی،گارڈین سمیت پورے انٹرنیشنل میڈیا نے اس رسوا زمانہ خبر کو کور کیا، یاد ہو گا کچھ ماہ قبل نواز شریف صاحب نے بمعہ خاندان بیلاروس کا دورہ کیا تھا صدر الیگزینڈر لوکاشینکو سے ملتے ان کی خوشی دیدنی تھی،لوکاشینکوکو کرپشن پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے او۔سی۔سی۔آر۔پی نے ۱۲۰۲ء کا کرپٹ پرسن آف دی ایئر قرار دیا،قوم اپنی پوری توجہ آنے والے روشن مستقبل پر رکھے،جاپان زیادہ دور نہیں۔

