Brain Drain From Pakistanبرین ڈرین کے خیال کو صفر رقم کا کھیل تصور کیا جاتا ہے یعنی ایک قوم کا فائدہ دوسری قوم کے نقصان کے برابر ہے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
با صلاحیت اور ذہین دماغوں کی بہتر مواقعوں کی تلاش میں اپنے ملک سے دوسرے ترقی یافتہ مما لک کی طرف منتقلی کو ہنر مند نکاس، دماغی نالی یا برین ڈرین کہتے ہیں،یعنی ملک کے اعلیٰ دماغ اپنے ملک سے تعلیم حاصل کر کے دوسرے ملکوں کو سنبھالنے کے لیے پرواز کر جائیں،برین ڈرین کے خیال کو صفر رقم کا کھیل تصور کیا جاتا ہے یعنی ایک قوم کا فائدہ دوسری قوم کے نقصان کے برابر ہے۔دنیا کے اڑتالیس ((48سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کے برین ڈرین کے اعدادو شمار دل دہلا دینے والے ہیں،ہر پانچ میں سے ایک شخص وطن چھوڑنے پر مجبور ہے،جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح کافی حد تک اطمینان بخش ہے، ہر پچیس میں سے ایک شخص ہجرت کرتا ہے۔پاکستان تارکین وطن سے تعلق رکھنے والے سر فہرست ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے۔انسانی ہجرت کی کہانی پندھرویں سے اٹھا ر ویں صدی کے دوران جب امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کو کھیتی باڑی کے لیے مضبوط جثہّ لوگوں کی ضرورت تھی, 360 سالوں میں کم از کم 12ملین افریکیوں کو جہازوں میں بھر بھر کر کھیتوں میں اتارا جاتا، اڑھائی فت اونچائی والی چھتوں کے جہازوں میں طویل جثہّ افریکی غلام اس طرح بھرے جاتے کہ ایک کروڑ کی تعداد یورپ پہنچنے پر صرف دس لاکھ رہ جاتی ،اٹھارویں صدی کے اختتام اور انیسویں صدی کے شروع میں یورپ میں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا، کوئلہ، لوہا اور ٹکسٹائل کی انڈسٹری تیزی سے پھیلنا شروع ہوئی، اب مغرب کو پڑھی لکھی اور ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت پیش آئی۔اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پسماندہ ممالک کے تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے دروازے کھول دیے گئے، اندھے کو کیا چاھیں دو آنکھیں کے مصداق بڑی تعداد میں لوگوں نے یورپی ممالک کی طرف نقل مکانی شروع کی۔
پاکستان میں برین ڈرینBrain Drain From Pakistan
پاکستان میں برین ڈرین1950-60 کی دہائی کے درمیان شروع ہوا، میر پور، کھاریاں،کوہاٹ سے بڑی تعداد میں لوگ غیر ممالک میں جا کر آباد ہوگئے۔گزشتہ پچھ سالوں سے پاکستان کی معیشت بری طرح ڈگمگا رہی ہے،لا قانونیت،روزگار کا فقدان، انتہا پسند نظریات کا پھیلاؤ،معاشی غیر یقینی، سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی اور گورنس کا کمزور ڈھانچہ،بجلی گیس کی گھنٹوں بندش، ٹیکسوں کا یکطرفہ اندھا دھند نظام،ملٹی نیشنل کمپنیز کا انخلا،غیر موثر قلیل مدتی پالسیاں، مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں آئے روز اضافوں نے نوجوانوں کے ذہنوں میں بے یقینی کی کفیت پیدا کر دی ہے،جسکی وجہ سے ملک کی 64 فیصد آبادی جس کی عمر تیس سال سے کم ہے ا مید کھو رہی ہے۔ہری بھری چراگاہوں کے لیے ملک چھوڑنے والے ہنر مند افراد کی بڑھتی ہوئی تعدادکے ساتھ پاکستان اپنا دماغی سرمایہ کھونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ جرمنی، جاپان کاریں ایکسپورٹ کرتے ہیں ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم انسان ایکسپورٹ کرتے ہیں،پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی سائیٹ ویزے کے متعلق ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائیمنٹ کے حالیہ اعدادوشمار بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائیمنٹ کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق 2019 میں 6 لاکھ 25 ہزار افراد نے ملک سے نقل مکانی کی جن میں 4 لاکھ اعلیٰ دماغ یعنی پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد شامل ہیں۔ 2020 میں 2 لاکھ 88 ہزار افراد انکھوں میں بہتر مستقبل کے سپنے سجائے ملک سے کوچ کر گئے۔ 2021 میں 2 لاکھ 25 ہزار افراد ملک چھوڑ گئے(کرونا کا عرصہ، سفری پابندیاں) 2022 میں 7 لاکھ 65 ہزار افراد دوسرے ملکوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان سے ہجرت کر گئے، گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے، 2023 میں 8 لاکھ افراد پاکستان کو خیر باد کہ گئے، اپریل 2024 تک ایک کروڑ 35 لاکھ 30 ہزار سے زائد پاکستانی سرکاری طور پر پچاس سے زائد ممالک میں کام کرنے کے لیے ہجرت کر گئے۔پاکستان اقتصادی سروے کی رپورٹ کے مطابق 2022-23 کے دوران نقل مکانی میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوا،10 ملین سے زیادہ لوگ ملک چھوڑ گئے، جن میں 92000 اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں 5534 انجینئر، 2600 زرعی ماہرین، 900سے زائد اساتذہ، 12000کمپیوٹر ایکسپرٹ،1600 نرسز، 6701کمپیوٹر آپریٹر،8500 پینٹرز، 500 سے زائد ڈیزائنرز، 25,500 ڈاکٹرز(وزیر اعلیٰ کے حکم پر ساہیوال ہسپتال میں ڈنڈے کھانے اور گرفتار ہونے کے بعد امید ہے کہ اب نقل مکانی کی تعداد دوگنی ہو جائے گی) شامل ہیں۔غربت اور مہنگائی سے تنگ، ڈنکی لگا کر، ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹ لٹا کر، سمندروں میں غوطے کھاتے ہوئے، کنٹینروں میں بند ہو کر اور دیگر کئی غیر قانونی طریقوں سے جانے والوں کی تعداد میں آئے روز ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔
| سال | بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی مجموعی تعداد | اعلیٰ تعلیم یافتہ / ہنر مند افراد | ذرائع / وضاحت |
| 2023 | 8,62,625 پاکستانی بیرونِ ملک روزگارکے لیے گئے | 45,687 اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنلز | اکنامک سروے اور بیورو آف امیگریشن کےاعداد و شمار |
| 2024 | 7,27,381 پاکستانی بیرونِ ملک گئے | ہنر مند اور غیر ہنر مند دونوں شامل | بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ |
| 2025 | تقریباً 3,36,999 (صرف 6 ماہ) | ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین کی بڑی تعداد | 2025 کے ابتدائی چھ ماہ کے سرکاری اعداد وشمار |
مستقبل کے رہنما نوجوان پاکستان کے مستقبل کے رہنما ہیں ایسے میں جب یورپی اور چینی آبادی بوڑھی ہو رہی ہیں یہاں کے نوجوانوں کا بڑھنا فائدہ مند ہے، ایک پڑھا لکھا انسان ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کی تازہ مثال ڈاکٹر قدیر مرحوم ہیں آپ پاکستان کی محبت میں 1974 میں نیدرلینڈ جیسا ملک چھوڑ کر وطن واپس آئے اور اپنے علم کی بنا پر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، دوسر ی مثال لوئے الباسیونی کی ہے جس کا تعلق غزہ سے تھا، اس نے امریکہ سے اعلی تعلیم حاصل کی اور ناسا کا عظیم سائنسدان بنا، اس نے بجلی کی مدد سے چلنے والے چھوٹے جہاز کو مریخ کی سطح پرکامیابی سے اتارا(مریخ کا زمین سے فاصلہ 225 ملین کلومیٹر ہے) اپنے ڈاکٹروں، انجیئنروں، اساتذہ، اور دوسرے اہل افراد کو کھونا ایک بہت بڑا المیہ ہے اور وہ کسی بھی قوم کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، قیادت کو چاھیے کہ ایسی پالسیاں بنائے جو نوجوانوں کو ملک میں کام کرنے کی ترغیب دیں، انڈیا، افغانستان، ترکیہ، چین میں اس ایشو پر خاطر خوا پیش رفت ہوئی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ابھی یہ بحث جاری ہے کہ عمران خان کو ابھی کم از کم پانچ سال مزید جیل میں رکھا جائے۔
انسانی ہجرت پر پنجابی شعر ملاحظہ فرمائیں (اپنے کر پردیسیاں وانگو پرتن دا احساس کیو ہے، میں سنتالی(47) توں مغروں جمیا میرے پنڈے لاس کیو ہے(میں تو بٹوارے کے بعد پیدا ہوا پھر بھی میرے جسم پر زخم کیوں ہیں اور میں اپنے ہی دیس میں پردیسیوں کی طرح کیوں آتا ہوں)

