“BaniGala: The Legendary World of Imran Khan’s Residence”بنی گالہ کی دیو مالائی دنیا,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
بنی گالہ کی دیو مالائی دنیا:یہ طلسم کدہ ہے افسوں کی نگری جس میں نہ عقل کا گزر رہتا ہے نہ ہوشمندی کا گمان،بھوت پریت جن اور چڑیلیں جادو نگری کا انصرام سنبھالے ہوئے ہیں،موکل آسیب اور روحوں نے روحانیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے،یہاں زائچے کھینچے جاتے ہیں جھاڑ پھونک کر کے حال سے مستقبل کشید کیا جاتا ہے اس وادیئے الف لیلہ کے تمام فیصلے اڑن کھٹولے پر بیٹھی دیوی کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے ہیں،مراقبوں سے پیادوں کو بخشیش ملتی ہے،چلّوں سے؛ع؛کی طاقت کا حصار کھینچا جاتا ہے۔آدم بو آدم بو! یہی ہے بنی گالہ کی دیو مالائی دنیا
2015-2025
اب پہاڑوں سے نیچے اتر کر ایک دہائی کا سفر طے کر تے ہیں اور حقیقت کی دنیا میں واپس آتے ہیں 2015، عمران خان اور ریحام خان میں اختلافات شدت اختیار کر چکے، خان صاحب ہاں اور نا کے درمیان پنڈولم کی طرح جھول رہے ہیں۔مریم وٹو جو دبئی میں پی ٹی آی کی سوشل میڈیا ورکر ہیں اکثر خان صاحب سے پارٹی معاملات کو لے کر رابطہ میں رہتی تھیں، خان صاحب کو مشورہ دیتی ہیں کہ میری بہن اللہ والی ہیں انکا کہنا ہے کہ آپ پر جادو ہے آپ اس کا توڑ کریں سیدھے سادھے خان صاحب نے مریم وٹو سے اللہ والی کا نمبر لیا اور انکے مشورے سے ریحام کو طلاق دے دی گئی۔بشری ٰ بی بی اورعمران خان کی پہلی ملاقات 2015 میں ہوئی خان صاحب تصوف کی جانب راغب ہو چکے تھے وہ پاکپتن میں بابا فرید کے مزار پر حاضر ہوتے اور واپسی پر مانیکا خاندان کی رہاشگاہ پر بھی کچھ گھنٹے گزار کر واپس بنی گالہ آجاتے(مرشد دا دیدار باہو،لکھ کروڑاں حجاّں ہو) لودھراں کے ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کی جیت کی پیشگی خوشخبری دینے پر بشریٰ بی بی خان کا اعتماد جیت چکیں، شطرنج کی بساط بچھائی جا چکی تھی، 44 سالہ رانی کون سی چال چلے گی سب لوح محفوظ پر لکھا جا چکا تھا 2017 آتے آتے 5 بچوں کی والدہ بشری ٰبی بی خاور مانیکا سے خلع لے چکی تھیں 2018 کی ابتدائی ساعتیں ہی ثمر بار ثابت ہوئیں کل کائینات ایک چھوٹے اٹیچی کیس سے حق مہر میں زمان پارک والا گھر اور سات کنال کا بنی گالہ میں پلاٹ مرشد کے قدموں میں ڈھیر کر دیا گیا۔
بشری ٰ بی بی18 اگست 2018 سے 10اگست 2022 تک پاکستان کی خاتون اولّ رہیں روحانی بزرگ بابا فرید کی عقیدت مند، تصوف اور سلاسل پسند ہیں،بنی گالہ کے سیاہ و سفید کی مالک تو تھی ہی اب سیاست میں بھی انکا سکہ چلتا فالیں نکالی جاتیں سادہ دل مرید اپنے مرشد کے فیصلوں سے روگردانی کرتا تو دین و دنیا میں راندہ درگاہ ٹھہرتا،زمان پارک سے ملنے والی ڈائری میں طلوع آفتاب سے دن ڈھلنے تک مرید خاص کی پل پل کی جنبشوں کی تفصیلات مرشد کے روحانی خوابوں کے تابع لکھی جاتیں،کس کی جاہ تھی کہ انکار کرے،توہم پرستی کبھی بابا فرید کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنے پر مجبور کرتی تو کبھی اقوام متحدہ کی تقریر کے موقع پر نیلا سوٹ پہنواتی روحانیت کی دیوی اپنے پتے بہت سوچ سمجھ کر کھیل رہی تھیں،گھڑیاں،ہیرے جواہرات حرص و ہوس کی لمبی داستان، 3 سال لندن جانے سے روکے رکھا(وجہ آپ کو معلوم ہی ہے)اسٹیبلشمنٹ نے بڑی مشکل سے ایک دورے کا اہتمام کیا امریکی صدر بھی وہاں آرہے تھے لیکن خان صاحب نے انکار کر دیا جس سے دونوں ملکوں سے تعلقات مزید خراب ہوئے
ع کی طاقت سے ع کی حقیقت تک : وزارتِ عظمی ٰ تو خان صاحب کے حصے میں آ گئی لیکن طاقت کا اصل مرکز اردو کا 24 واں، عربی کا 18 واں اور فارسی کا 21 واں حرف؛ع؛ ٹھہرا،ع کو ملکوتی اور قمری درجہ حاصل ہے اسکا شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے انسان جادو سے محفوظ رہتا ہے عزت و وقار سے نوازا جاتا ہے، طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے صدر کے لیے فال دو عین والے عارف علوی کے نام کی نکلی پھر عمران اسماعیل،اگلا نام نامی سید ذوالفقار عباس بخاری(زلفی بخاری)فردوس عاشق اعوان،چیف سیکریٹری اعظم سلمان، انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر؛ع؛کے حصار میں آئے(گویا قابلیت گئی تیل لینے)ہاں البتہ پرانے گھریلو ملازمین اور خان کے قریبی ساتھیوں جہانگیر ترین،عون چوہدری،علیم خان(ع کی طاقت کے باوجود) کے لیے بنی گالہ کی زمین تنگ کر دی گئی(عون چوہدری کو تو عین وزرت عظمیٰ کی تقریب کے وقت خواب کے مطابق منحوس قرار دیا گیا)
چھو منتر کی مالا جپتے جپتے جب پنجاب کی وزارت عظمی ٰکے لیے قرعہ فال سائیں عثمان بزدار کا نکلا تو عامی و خاصی تلملا اٹھے لیکن شمع جانتی تھی کہ پروانے میں کتنا دم ہے سائیں بزدار نے اڑھائی سال پنجاب کو میوزیکل چیئر بنائے رکھا پنجاب پولیس کے 6 سربراہ آئے اور گئے ناصر درّانی،مرحوم عمر شیخ(سی سی پی او )لاہور شیطانی بگولوں میں لپیٹے گئے جبکہ فیض یاب ہونے والوں میں مانیکا خاندان سر فہرست رہا ٹینڈروں کی لائینیں لگ گئیں،خاورمانیکا سے اختلاف کی صورت میں ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے پر کاٹے گئے مزید تفصیل لکھنے کی بجائے خواجہ آصف کی بات یاد آتی ہے کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے)واقفان حال کا کہنا ہے کہ عدت میں نکاح والے معاملے میں بھی خان صاحب ہنی ٹریپ ہوئے،مکرو فریب،جادو ٹونے سے کوسوں دور آکسفورڈ کا پڑھا یہ نہ جان سکا کہ(الہی یہ تیرے سادہ دل بندے جائیں تو کہاں جائیں،یہاں سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری)بی بی کی نام نہاد روحانیت کا آخری معرکہ جو سیا سی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا جب ڈر خوف، بھوک پیاس،موسم کی سختی سے بے پروا 35 ہزار فدائین کی اپنے دست حق پر بیعت لی؛جان کے بدلے خان؛کی مالا پھرولتے اسلام آباد کی جان لیوا بستی میں آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے تھے جبکہ خان کا حکم تھا کہ ڈی چوک سے آگے نہ جایا جائے پر دھرتی پر رونما ہونے والی پہلی دیومالائی جنگ جس میں بھوت،دیو،جن اورموکلات شامل تھے ہیلن آف سپارٹا (خان صاحب ) کا حصول سر چڑھ کر بول رہا تھا،ادھر اندھیرا گہرا ہوا،گولیوں کی ترتڑاہٹ کان میں پڑی ہی تھی رانی گھوڑے پر سوار؛کھل جا سم سم؛ کرتی جادو کی نگری میں گم ہو گئی۔اب جادو چل رہا ہے تو؛ع؛والے عاصم منیر کا؛ع؛والی علیمہ اور عظمیٰ خانم کا؛ پنجابی کا محاورہ ہے؛نہ وسیّ آں نہ وسن دیاں گی،موصوفہ خود بھی جیل میں ہیں اور وہ اللہ کا نیک بندہ جانے انجانے میں کیے گئے فیصلوں کی سزا بھگت رہا ہے،اڈیالہ کی کال کوٹھری خان کا مقدر،کوئی کاٹ پلٹ کام نہ آئی
(سچ ہے سدا نہ باغیں بلبل بولے،سدا نہ موج بہاراں،سدا نہ ماں پے حسن مان جوانی،سدا نہ صحبت یاراں)
جتنا بڑا آدمی اتنی بڑی آزمائش: نکھرا ستھرا خان،نہ کوئی توشہ خانہ،نہ عدالتوں کے گھن چکر،پہلے والی خان کو قابو کرنے آئ تھی اور یہ خزانہ۔۔۔(جتنا بڑا آدمی اتنی بڑی آزمائش) خان صاحب صاحب کمال شخص ہیں اپنی ذات میں آپ انجمن، آپ کی بہادری بیان کریں تو لفظ کم پڑ جائیں،یہ بات سچ ہے کہ آپ لوگوں کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہے ہیں،خانہ کعبہ میں آپ کے لیے دعائیں ہوتی ہیں،بچے میلوں پیدل چل کر آپ کو ملنے کے لیے آتے رہے،بڑی عمر کی عورتیں آپ کے ذکر پر آبدیدہ ہو جاتی ہیں یہ گواہی ہے آپ کے اجلے من کی۔مودبانہ گزارش ہے کہ جہاں صدقات خیرات وظائف کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے وہاں ریاست بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے اسے غیر حقیقی مرئی طاقتوں کے حوالے نہ کریں لیکن اگر جنرل فیض حمیداور باجوہ کے ساتھ میٹنگ سے پہلے،صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل اور چین کے صدر سے مصافحہ سے چند منٹ پہلے کالا بکرا آمنے سامنے سے گزار کر چیلوں اور کووں کو کھلایا جائے اور اپنے بیڈ روم میں تعویز اور ہڈیاں رکھی جائیں تو اس کا کیا مطلب لیا جائے گا جس روشن مستقبل کی پشین گوئی کے زیر اثر آپ نے بشریٰ بی بی سے نکاح کیا تھا اتنا تومستقبل کے بارے میں کسی حد تک سمپسون کارٹون بھی بتا دیتا ہے۔ یوتھ برگیڈ سے معافی کی طلبگار
| شخصیت | تاریخ پیدائش | اہم معلومات | دیگر حقائق |
|---|---|---|---|
| عمران خان | 5 اکتوبر 1952 | پاکستان کے سابق وزیرِاعظم، کرکٹ کھلاڑی، اور تحریک انصاف کے سربراہ | کرکٹ میں عالمی شہرت، نوبل امن انعام کے امیدوار |
| بشرہ بی بی | 17 جنوری 1971 | عمران خان کی زوجہ، روحانی رہنما | پاکستان میں مذہبی اور روحانی حلقوں میں معروف، عوامی تقریبات میں شرکت |

