Balochistan: Unveiling the Misery of a Marginalized Provinceزیر زمین خزانوں کی داستان,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
صرف سطور نہیں بلکہ بین السطورپڑھنے کی کوشش کریں واضح ہو جائے گا کہ
شہروں شہروں ہے ایسی قیامت برپا، آگ رہگذر رہگذر کیوں لگ گئی
کس نے میری ہواؤں کو بہکا دیا، میری دھرتی کو کس کی نظر لگ گئی
اضلاع، 1کروڑ46لاکھ نفوس،طویل ساحل جس پر گوادر کی اہم ترین گہرے پانیوں کی بندرگاہ،ریکوڈک اور سنیدک جیسے سونے اور تانبے کے ذخائر،گیس و تیل کے علاوہ معدنیات کا ایک وسیع خزانہ،سندھ اور پنجاب سے ملانے والی تمام شاہراہیں بلوچ علاقوں سے ہو کر گزرتی ہیں کیونکہ یہاں انگریز کی براہ راست حکومت قائم تھی ریلوے کے نظام سے لے کر آبپاشی تک تمام کارہائے نمایاں انگریز کے قائم کردہ، 347190کلومیٹر رقبہ کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان یکم جولائی 1971 کو قائم ہوا،آثار قدیمہ کیمطابق7000 سال پہلے بلوچستان میں مہر گڑھ کے علاقے میں آبادی کے آثار ملے ہیں،325قبل مسیح جب سکندر اعظم سندھو کی مہم کے بعد عراق میں بابل پر حملہ کرنے جا رہا تھا تومکران کے ریگستان سے گزرا اس زمانے میں یہاں براہوی آباد تھے جن کا تعلق ہندوستان کے قدیم ترین باشندوں دراوڑوں سے تھا۔اسلامی تاریخ کیمطابق بلوچستان امیر المومنین عثمان ابن عفان کے دور میں فتح ہوا اور یہ مکمل طور پر خلافت ِراشدہ کے زیر اقتدار تھا۔

بلوچستان میں پانچ بڑے نواب ہیں جن میں نواب اسلم رئیسانی،نواب ذوالفقارمگسی، نواب ایاز جوگیزئی(پشتون)،نواب خیربخش مری،نواب سرفراز بگٹی قابل ذکر ہیں بلوچستان کا قبائلی سسٹم سندھ اور پنجاب سے مختلف ہے،بلوچستان میں وڈیرے ٹکری کہلاتے ہیں تمام ٹکری مل کر سردار منتخب کرتے ہیں،سردار مل کر نواب چنتے ہیں اور تمام نوابوں کا سربراہ خان ہوتا ہے جسے پورے بلوچستان کی معتبر ترین شخصیت مانا جاتا ہے،اس قبائلی سسٹم میں دو بڑے چیفس،چیف آف ساراوان اور چیف آف جلاوان نمایاں ہیں، نواب اسلم رئیسانی چیف آف ساراوان جبکہ ثنا اللہ زہری کے پاس چیف آف جلاوان کا عہدہ ہے،نواب سرفراز بگٹی PPPاس وقت بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ہیں نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نواب چنگیز مری فیڈریشن سے ناراض ہیں جبکہ نواب ذوالفقار مگسی وفاق سے ناراض قبیلے؛ بگٹی؛ کے رشتہ داراور حمایت یافتہ ہیں، بگٹیوں میں بلوچ ریپبلکن آرمی کے سربراہ براہمداخ بگٹی(نامعلوم مقام)،ہربیار بگٹی(لندن میں سیاسی پناہ) گزین بگٹی(دوبئی)عسکریت پسندوں کی حمایت کر رہے ہیں،گزین بگٹی کی اہلیہ ذوالفقار مگسی کی ہمشیرہ ہیں (امن ناگزیر)

بلوچستان میں شورش کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد 1948 میں ہوا جب کچھ بلوچی سرداروں نے بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کی مخالفت کی۔گزشتہ روزبلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل اور ادب پسند رہنما ڈاکٹر عبد المالک نے الزام عائد کیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عوام کی اصل نمائندہ سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگایا اور انکی طرف سے مسلح جدوجہد کرنے والی بلوچ تنظیموں سے بات چیت کوسبوتاز کیا،انتخابی انجینئر نگ کے ذریعے ایک ایسی حکومت قائم کی گئی جس کی عوام میں کوئی سیاسی ساکھ نہیں، اس موقف کے جواب میں وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں تقریر کی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن صرف اسی وقت شروع کیے گئے جب علیحدگی پسندوں نے مذاکرات سے انکار کر دیا انکی تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ صوبے میں مسلح جدوجہد کے پیچھے بلوچ عوام کا احساس محرومی نہیں اور نہ ہی پاکستان کی کمزور ریاستی پالیسیاں ہیں بلکہ یہ بلوچ عسکریت پسندی ایک بیرونی سازش ہے جس سے نمٹنے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے طاقت کا استعمال انہوں نے اپنی تقریر میں یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور ریاستی فورسز پر لگنے والے الزامات میں کوئی صداقت ہے(قصہ مختصر!وزیر اعلیٰ اس طاقت کے حامی ہیں جو ترکی کی ریاست نے کردوں کے خلاف اور اسرائیل نے غزہ کے خلاف استعمال کی)

بلوچستان کے انتظام و انصرام کو انگریز دور سے ہی باقی خطوں سے علیحدہ طرز پر استوار رکھا گیا،ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر رابرٹ سنڈیمن نے اپنی مشہور؛فارورڈ پالیسی؛ پر حکومت برطانیہ سے منظوری کے بعد عمل درآمد کا آغاز کیا جب انگریز اس خطے میں بلوچوں سے شکست کھا رہے تھے،پنجاب اور سندھ فتح ہو چکے تھے لیکن زار روس کے مقابلے میں خود کو مستحکم کرنے کے لیے انگریز کو بلوچستان کا خطہ درکار تھا یہاں کے سنگلاخ پہاڑ فصیل کا کام دے سکتے تھے،سنڈیمن نے تجویز پیش کی کہ یہاں کے امن و امان کی ذمہ داری بلوچ سرداروں کے حوا لے کر دی جائے اس کے بدلے بلوچ سرداروں کو تاج برطانیہ کا وفادار ہونے پر قائل کر لیا جائے اسی کی کوکھ سے لیویز سسٹم نے جنم لیا انگریز قبیلے کے سردار کو لیویز کے سپاہی رکھنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کے ذریعے رقم فراہم کرتا اور وہ بدلے میں انگریز کو ایک پر امن خطہ عطا کرتے،خان آف قلات سے لے کر نوابوں،سرداروں تک سب؛ خانہ نشینی؛الاؤنس حاصل کرتے،پاکستان نے اس انتظام کو ورثے میں لے لیا،سرداری نظام اور انتظامیہ کی گٹھ جوڑ انگریز کا تحفہ ہے
بلوچستان میں فوجی آپریشنوں کا آغاز 1916میں جنرل ڈائر نے برٹش بلوچستان اور ایرانی بلوچستان کی سرحد پرکیا جس میں شیعہ سنی اختلاف کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، دوسرا بڑا آپریشن1948 جنرل اکبر خان نے خان آف قلات کے بھائی پرنس عبدالکریم کیخلاف کیا 73,62,1958, اور پھر 26 اگست 2006 کو80 سالہ نواب اکبر بگٹی کے خلاف کوہلو کے پہاڑوں میں ایک آپریشن کے بعد پرویز مشرف نے سینہ تان کر کہا تھا ہم نے ریاست کے دشمن کا خاتمہ کر دیا،7 سال تک عدالت میں پرویز مشرف کیخلاف مقدمہ چلتا رہا لیکن مشرف ایک مرتبہ بھی عدالت پیش نہ ہو ا ،ہم نے 1980کی دہائی میں ڈالر لیے 1996کی دہائی میں ڈالر لیے2001 میں ڈالر لیے اور اب ایک با ر پھر ڈالرز کی تیاری کر رہے ہیں
شریف اللہ،داعش کا سر گرم رکن ایران کے شہر کرمان اور روس کے دارالحکومت میں تخریب کاری کی مہاوارداتوں میں ملوث،اگست 2021 میں امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے دوران کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملہ کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے کسی سنگین واقعہ کا ہونا لازمی امر تھا توقع تھی کہ ریاستی ادارے ا ن خدشات کو منطقی انداز میں محسوس کرتے ہوئے چوکنا ہوں گے لیکن منگل کے وقوعہ کے لیے ہم تیار نہیں تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں نے11 مارچ 2025جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے عید پر اپنے گھروں کو جانے والے 400 کے قریب مسافروں کو یرغمال بنا لیا،دہشت گرد مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کر کے بڑی تعداد کو اپنے ساتھ پہاڑوں پر لے گئے سینکڑوں کی شہادت کی اطلاع(،پاکستان کی 76سالہ تاریخ میں شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو قتل کرنے کی رسم کا آغاز بلوچستان کے علاقے درہ بولان کے علاقے پیر غیب سے ہوا تھا)،14 مارچ 2025 بلوچستان کے ضلع کھچی کے علاقے سنی میں زیر تعمیر ڈیم پر دہشت گردوں کا حملہ7 مزدور اغوا16 مارچ2025 کالعدم تنظیم بی ایل اے کا ایف سی کانوائے پر خودکش حملہ 3 جوانوں سمیت 5 شہری شہید، وزیر اعظم کا نوشکی دھماکے پرشدید مذمت کا اظہار( یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا، ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے)

بلوچستان علیحدگی کے ایجنڈے پر کام کر رہی بلوچ لبریشن آرمی ایک گوریلا تنظیم، جس کا موجودہ کمانڈر ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ جو مکران کے پہاڑوں میں پناہ گزین ہے، BLA بلوچستان میں گیس لائنیں اڑانے، فوج، پولیس اور غیر مقامی افراد پر حملوں میں ملوث رہی ہے،میر بالاچ مری(نواب خیر بخش مری کا صاحبزادہ) اس کا پہلا کمانڈر تھا جو 2008 میں افغانستان میں اتحادی فوج کے حملے میں مارا گیا
نو منتخب وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اتنے بڑے سانحے پر بیان دینا مناسب نہیں سمجھا،وفاقی وزیر داخلہ کا فرمان تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے کسی بڑے آپریشن کی ضرورت نہیں بلکہ یہ دہشت گرد تو ایک ایس ایچ او کی مار ہیں،وزیر دفاع خواجہ آصف فرماتے ہیں دہشت گردوں کے پیچھے بھارت ہے اور ان کے خلاف فوج سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ایک بڑا آپریشن کرے گی، آخری لائنیں لکھتے ہوئے قلم سے سیاہی کی بجائے آنسو ٹپک رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جعفر ایکسپریس میں مارا جانے والا 30 سالہ مسافر یاسر ہری پور کا رہائشی تھا افغانستان کی سریا فیکٹری میں کام کرتا تھا80 ہزار روپے کما کر عید کی چھٹیوں پر واپس آنے لگا تو پاکستان اور افغان طالبان میں کشیدگی کی وجہ سے طورخم بارڈر بند تھا وہاں سے چمن بارڈر گیا اور کراس کر کے کوئٹہ آیا یہاں سے ٹرین پر سوار ہوا تو بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں نے شناختی کارڈ دیکھ کر5 گولیاں ماریں اور 80 ہزار کی رقم بھی لوٹ لی،لاش واپس لانے تک گھر والوں کے دو لاکھ لگ گئے

بلوچستان کے مسائل کا حل نہ تو ایک آزاد بلوچستان ہے اور نہ ہی مودبانہ اور غلامانہ سیاست،بلوچوں کو انکے وہ حقوق دینے ہوں گے جن کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا، سندھی صدر اور پنجابی وزیراعظم کی موجودگی میں مسئلے کا حل آزاد انتخابات ہیں جو فی الحال ممکن نظر نہیں آتے،محبتوں کے امین غیرت مند بلوچ ہمارے بھائی ہیں بلوچوں کی نفرت کی لو کومزید اونچا کیا جائے، صوبے میں محرومیوں کے ازالے اور پائیدار امن کے حل کے لیے جامع حکمتِ عملی، مضبوط سیاسی مکالمہ،معاشرتی اصلاحات، طویل مدعتی اور جامع عسکری پلان وقت کی اہم ضرورت ہیں