Augusto Pinochet a Chilean military dictator:آمرانہ حکمرانی،سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جانا جاتا,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
چلی”جنوبی امریکہ کا سب سے لمبا ملک”
سانٹیاگو دار الحکومت، پیسو کرنسی اور ہسپانوی زبان کے ساتھ جنوبی امریکہ کا سب سے لمبا ملک؛ چلی؛ اینڈیز پہاڑی سلسلے اور بحر الکاحل کے درمیان طویل تنگ ساحلی پٹی پر واقع ہے۔اسپین نے سولھویں صدی کے وسط میں اس علاقے کو فتح کیا اور اسے اپنی نوآبادیات بنایا لیکن ان آزاد میپوچے لوگوں کو فتح کرنے میں ناکام رہا جو اب جنوبی وسطی؛چلی؛ میں آباد ہیں،چلی 1830 کی دہائی میں اسپین سے آزادی کے بعد مستحکم جمہوریہ کے طور پر ابھرا۔19ویں صدی کے دوران چلی نے اقتصادی اور علاقائی ترقی کا تجربہ کیا،میپوچے کی مزاحمت کو ختم کیا،پیرو اور بولیویا کو شکست دے کر بحر الکاحل کی جنگ میں اپنا موجودہ شمالی علاقہ حاصل کیا۔20ویں صدی میں 1970کی دہائی تک؛چلی؛جمہوریت کے عمل سے گزرا اور اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے تانبے کی کان کنی سے برآمدات پر انحصار کر کے آبادی میں تیزی سے اضافہ اور شہرکاری کا تجربہ کیا۔ چلی کا ذکر آتے ہی ذہن میں پیبلو نارودا(چلی کا مشہورشاعر) کا نام گونجتا ہے جن کی مشہور نظم ہمار ے پیپلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن صاحب قومی اسمبلی کے فلور پر نواز شریف صاحب کو نشانہ بناتے ہوئے پڑھا کرتے تھے،چند جملے ملاحظہ کریں (کہو تم عدالت میں جانے سے پہلے،کہو تم وزارت پہ جانے سے پہلے، کہو تم سفارت پہ جانے سے پہلے، دکھاؤ ہمیں اپنے اعمال نامے، قیامت کے دن اور خدا پر نہ چھوڑو، قیامت سے یہ لوگ ڈرتے نہیں ہیں، اسی چوک پہ خون بہتا رہا ہے،اس چوک پہ قاتلوں کو پکڑ کے سزا دو سزادو سزادو)
سلواڈور ایلینڈے1970-73
سلواڈور ایلینڈے1970-73 نے چلی میں 28ویں صدرکے طور پر اپنے قتل تک خدمات انجام دیں،صدر کے طور پر ایلینڈے نے تعلیم کے فروغ،محنت کش طبقے کے معیار ِزندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی اسکا مقابلہ دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ تھا جو عدلیہ اور کانگرس کو کنٹرول کرتی تھیں 11 ستمبر 1973کو فوج جنرل پنوشے کی قیادت میے ایلیندے کو بے دخل کرنے کے لیے حرکت میں آئی،فوجیوں نے لامونیڈا پیلس کو گھیرے میں لیا، بتایا جاتا ہے کہ صدر سلواڈور نے اپنے دفتر میں خودکشی کر لی لیکن بدقسمتی سے حقائق ابھی تک واضح نہ ہو سکے،خاتون اول کے مطابق سلواڈور کو قتل کیا گیا۔ایلیندے کی موت کے بعد جنرل آگسٹو پنوشے نے اقتدار سول گورنمنٹ کو منتقل کرنے سے انکار کر دیا اور چلی پر فوجی جنتا کی حکمرانی قائم ہو گئی جس نے چار دہائیوں پر مشتمل جمہوری دور کا خاتمہ کر دیا،شہری حقوق معطل کر دیے گئے اور سلواڈور کی جماعت پر پابندی لگا دی گئی، اس صورتحال میں بہت سے دانشور ملک چھوڑ کر چلے گئے،اس فوجی بغاوت کے خلاف جدوجہداور اسکے ردّ عمل میں ہونے والے سرکاری جبر و استبداد نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا
جنرل پنوشے (1974-90)
چھ بہن بھائیوں میں سے سب سے بڑے جنرل پنوشے (1974-90) تک چلی کے صدر رہے1980 میں نیا آئین منظور کیا گیا جس کی رو سے جنرل پنوشے کو آٹھ سال کے لیے صدر منتخب کر لیا گیا، دوران اقتدار ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سنگین الزامات لگتے رہے،جنرل پنوشے پر الزام ہے کہ ان کے دور میں 3 ہزار سیاسی مخالفین لا پتہ ہو گئے،چلی کے سیاسی قیدیوں نے ریاستی سرپرستی میں جو اذیتیں برداشت کیں ان میں بجلی کے جھٹکے، واٹر بورڈنگ، مارپیٹ اور جنسی زیادتی شامل تھیں،تشدد کا ایک اور عام طریقہ کار ان لوگوں کو غائب کرنا تھا اور اکثر انہیں دوبارہ کبھی نہیں دیکھا گیا،انہیں ممکنہ طور پر تخریبی سمجھا جاتا تھاکیونکہ وہ بائیں بازو کے سیاسی نظریات پر عمل پیرا تھے۔
| پہلو | تفصیل | مدت / تاریخ | اضافی معلومات |
|---|---|---|---|
| مکمل نام | آگستو خوسے رامون پینوشے اوگارٹے | 25 نومبر 1915 | چلی کے شہر والپیرایسو میں پیدا ہوئے |
| اقتدار کا حصول | فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا | 1973 | صدر سالوادور آلینڈے کی حکومت کا تختہ الٹا |
| حکمرانی کی نوعیت | آمرانہ فوجی حکومت | 1973–1990 | سیاسی جماعتوں پر پابندی، سخت سنسرشپ |
| انسانی حقوق | سنگین خلاف ورزیاں | 1970s–1980s | ہزاروں افراد قتل، لاپتہ یا تشدد کا نشانہ بنے |
| اقتدار کا خاتمہ | ریفرنڈم کے بعد مستعفی | 1990 | جمہوریت کی بحالی |
| وفات | وفات | 10 دسمبر 2006 | انسانی حقوق کے مقدمات کا سامنا کرتے رہے |
پنوشے برطانیہ میں گرفتار کر لیے گئے اسپین کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کی پامالی کے الزام میں انہیں اسپین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا،برطانیہ اور اسپین میں یہ رسہ کشی کئی دنوں تک جاری رہی، آخر برطانوی حکومت نے جنرل پنوشے کو نظر بند کر دیا مارچ2000 میں چلی واپس آگئے2006 میں 91 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے چلی کا یہ ڈکٹیٹر انتقال کر گیا مرتے دم تک ان پر سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کے علاوہ کروڑوں ڈالر کے گپلوں کا الزام لگتا رہا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگس کو ہُما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں ، دم گُھٹتا ہے گنبدِ بے دَر میں, اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رُسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو اس ذلت سے کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا, ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

