An Ongoing Crisis in Education اجڑتے تعلیمی آنگن,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
تعلیم کسی بھی معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے پہلی وحی ؛اقراء؛ سے نازل ہوئی۔پڑھو اے بنیﷺ اپنے رب کے نام کے ساتھ۔اسلام کا سب سے پہلا مدرسہ مسجد نبوی بنا،جنگ بدر کے قیدیوں کو اصحابہ اکرام کو تعلیم دینے کی شرط پر رہائی کے احکامات جاری کیے گئے۔اسلام سے قبل ایران،یونان،بازنطین وغیرہ نے مختلف علوم میں ترقی حاصل کی،مسلمانوں نے علم کے اس سارے خزینے سے فائدہ اٹھایا،بنو امیہ کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کے ابتدائی دور میں یونانی علم و ہنر کے مراکز کی سرپرستی کی،سکندریہ، بیروت کے تعلیمی اداروں کو نا صرف قائم رکھا بلکہ انکو عروج بھی بخشا

عہد عباسیہ میں تو یونانی،ایرانی اور دوسرے قدیم علوم کو عربی زبان میں منتقل کرنے کی زبردست مہم چلائی گئی،ارسطو،افلا طون،بطلیموس کی تصانیف کے تراجم کیے گئے،عربی ریاضی دان الخوارزمی نے ریاضی جدولیں مرتب کیں،انتیس دانشوروں کے تعاون سے جغرافیہ کا انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا،تعلیمی اداروں کی سب سے ابتدائی شکل حلکقہ تھی جس میں استاد اونچی جگہ پر بیٹھتے جبکہ شاگرد نیم دائرے کی شکل میں حلقہ بنا کر بیٹھتے،استاد کا مقام عالی مرتبت ہوتا، جو سمجھاتے طالبعلم اپنی بیاضوں میں لکھ لیتے۔
عہد عباسیہ میں مسجدوں میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم دینے کے لیے مکتب قائم کیے گئے،عباسی حکمرانوں کے زمانے میں صرف بغداد میں تین سو مساجد تھیں،اسکندریہ میں بارہ ہزار مساجد جن میں اکثر مکتب بھی تھیں،ہارون الرشید کی بنائی ہوئی بغداد کی مسجد المنصور اور اصفہان،مشہد،دمشق،قاہرہ اور الحمرا کی مساجد تعلیم کا مرکز بن گئیں،قاہرہ کی جامعہ الازہر آج بین الاقوامی شہرت رکھتی ہے۔عباسی دور میں مشرق قریب اور بنو امیہ میں مغرب میں علم و فنون کو فروغ دینے میں کتب خانوں نے اہم کردار ادا کیا، بو علی سینا، امام غزالی،فارابی کے اپنے ذاتی کتب خانے بڑی شہرت رکھتے تھے۔ بارھوں صدی تعلیم کے ساتھ تحقیق کی صدی تھی،مسلم عالموں نے عباسی دور کی جامعات مستنصریہ اور نظامیہ،سپین کے شہروں میں بنو امیہ کی قائم کردہ جامعات سے علمی خزانے سمیٹے،سورج کے مدار کی پیمائش،زمین کا حجم،پنڈولم کی گھڑی، زمین کی کشش ثقل،طبیعات میں روشنی کا انتشار،سیاروں کا مطالعہ،کرہ کا استعمال،طب کے علوم،نئے نئے پودے،مویشیوں کی افزائش کے سائنسی طریقے،کیمیا میں مسلم سائنسدانون نے پوٹاس، سلور نائیٹریٹ ایسڈ، سلفیورک ایسڈ،کپڑے، دھاتیں برتن بنانے کی صنعتیں وغیرہ انہی جامعات کا فیض ہیں۔

وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا 2 فروری 1835 کو ہندوستان کے گورنر جنرل کی کونسل کے پہلے رکن برائے قانون؛لارڈ میکالے؛نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے پورے ہندوستان کا سفر کیا مجھے یہاں کوئی چور یا بھکاری نظر نہیں آیا،اخلاقی اقدار بلند ہیں،لوگ اعلیٰ سوجھ بوجھ کے مالک ہیں،ہم تب تک انہیں فتح نہیں کر سکتے جب تک ہم انکی ثقافتی اور دینی اقدار کو توڑ نہ دیں جو ان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ انکا قدیم نظام تعلیم اور تہذیب تبدیل کریں۔اس تقریر کے بعد لارڈ میکالے کو ہندوستان کا نظام تعلیم مرتب کرنے کا کام سونپا گیا۔اس نظام کے اثرات آج تک دیکھے جا سکتے ہیں
ہم اپنے ملک کے زمینی حقائق پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ دستور میں درج ہے کہ میٹرک تک مفت تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے،لیکن ہمارے بست و کشاد نے اس آئین کو خورد اعتناء ہی نہیں جانا، ہماری تعلیمی پستی کی اس سے بری مثال اور کیا ہو گی کہ ہمارا تعلیمی بجٹ ترانوے ارب روپیہ جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 700 ملین ہے،یعنی پڑھے لکھے لوگوں سے زیادہ بھکاری پیدا کرو,ہماری تعلیمی بحران ایک دو روز کا مرہون منت نہیں بلکہ اس شعبے تو تباہ کرنے میں سب برابر کے شریک ہیں،کیا حکومتیں کیا اساتذہ سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا اس تباہی کی داستاں میں,ہمارا تعلیمی نظام درجوں اور جہتوں پر مبنی ہے،تین قسم کے تعلیمی ادارے قائم ہیں، سرکاری ادارے،دینی مدارس، پرائیوٹ ادارے، لیکن مرض ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے،

روز نئے نئے تجربات کیے جا رہے ہیں، پنجاب کے وزیر تعلیم جو بتاتے ہیں کہ عمران خان میرے کالج کا پڑھا ہے مختلف شوز میں جنرل نالج کے ان سوالوں کے جواب دینے سے قاصر نظر آ ۓ جو پانچویں جماعت کا بچہ آسانی سے دے سکتا ہے تعلیمی بحران کی ایک اور وجہ وقت پر درسی کتب بچوں کو نہیں ملتی،گائیڈوں سے کام چلایا جاتا ہے، 2 کروڑ62 لاکھ بچہ سکولوں سے باہر ہے جو ہمارے ارباب اختیار کے منہ پر زور دار تمانچہ ہے،ہمیں کبھی تعلیمی ایمر جنسی کا مژدہ سنایا جاتا ہے تو کبھی اساتذہ کی جدید خطوط پر ٹریننگ کے کاغذی دعوے کیے جاتے ہیں،جبکہ ہمارے بچے 65 3 دنوں میں سے صرف 170دن اسکول جاتے ہیں
https://www.facebook.com/100094226602197/videos/1449995296507874
پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں 82 سرکاری و پرائیوٹ یونیورسٹیاں ہیں، المیہ ہے کہ متعدد میں وائس چانسلر ہی کوئی نہیں،سرکاری اسکولوں کالجوں میں مستقل بنیادوں پر پرنسپل مہیا نہیں،ہواؤں میں ہمارا مقابلہ روس،چین کے ساتھ ہے،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم کس قبیل کے لوگ ہیں، سٹیل مل ہم سے نہیں چل سکی، قومی ائیر لائین کا حال سب دیکھ سن رہے ہیں، تھانے،کچہریاں ہماری سمجھ سے باہر ہیں،سرکاری ٹیلی وژن ہم سے نہیں سنبھالا جا رہا، تعلیم کے تابوت میں آخری کیل اس بیان نے ٹھونکا ہے کہ میں وائس چانسلروں کا انٹرویو خود کروں گی .سی۔ایم پنجاب,تعلیم میں بہتری کا حل ہم نے یہ نکالا کہ سکولوں کی نجکاری کر دی جائے.جس صوبے کی منتظمہ کی ذہنی سوچ یہ ہو کہ کیا شعو ر سے کسی کا پیٹ بھر سکتا ہے وہاں تعلیم پر بحث اس خوا ب کی مانند جس کی تعبیر ممکن نہیں