An incident occurred near Bhati Gate, which shook the whole city گڈ گورنس کا پول کھل گیا,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
بھاٹی گیٹ داتا دربار کے قریب کھلے مین ہول میں ماں بیٹی کے گرنے اور جب شوہر نے ون فائیو پر اطلاع دی تو اسے فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن قرار دے کر شوہر کو حراست میں لئے جانے کا دل خراش واقعہ پیش آیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، واقعہ بدھ کی رات پیش آیا تھا جس کے بعد پہلے ماں کی لاش ملی اور آج 18 گھنٹے بعدبچی کی لاش بھی سگیاں سے برآمد کرلی گئی۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے حادثے کی تصدیق کی اور بتایا کہ جاں بحق خاتون کی شناخت سعدیہ کے نام سے ہوئی جس کی لاش نکال لی گئی، 1122 کو واقعے کی کال موصول ہوتے ہی فوری طور پر تمام اداروں کو متحرک کیا گیا، خاتون کی ڈیڈ باڈی آؤٹ فال روڈ ڈسپوزل سے ملی۔
ڈی آئی جی کے مطابق پورے معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کی گئیں،سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پورے واقعے کو مانیٹر کیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ خاتون کے شوہر کی بیان کردہ تمام باتیں درست تھیں، فیملی رکشا پر آئی، کہاں رکشا پارک کیا، کس راستے سے داتا دربار زیارت کے لیے گئے اور واپسی پر کیسے یہ افسوس ناک حادثہ پیش آیا سب کچھ کیمروں میں محفوظ ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے غفلت کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے ہائی لیول انکوائری کمیٹی قائم کر کے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی، جبکہ کچھ افسران کو نااہلی اور غفلت پر معطل بھی کر دیا گیا۔یہ بھی پڑھیں 28 جنوری کی رپورٹ
لاہور کے کھلے مین ہول میں ماں اور 3 ماہ کی بیٹی کے گرنے کی خبر فیک ہے،جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے,وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری لاہور کے داتا دربار کے سامنے ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے کے واقعے کو جھوٹ قرار دے دیا۔
متوفین کی لاشیں عین وہاں سے ملیں جہاں بتایا گیا تھا حادثہ ہوا ہے لیکن پنجاب کے ڈپٹی سپیکر صاحب نے خبر کو جھوٹا قرار دے دیا۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کچھ افسران کو نااہلی اور غفلت پر معطل بھی کر دیا, کیا ہی اچھا ہوتا پنجاب حکومت فیک نیوز اور ڈِس انفارمیشن پر وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو بھی معطل کر دیتیں,کیا جھوٹی خبر چلانے والے وزراء پر پیکا کا قانون لاگو ہوسکتا ہے؟
ایک ماہ قبل لودھراں میں بھی ایک بچہ گٹر میں گر کر جان گنوا بیٹھا, چند دن پہلےوزیراعلیٰ فرما رہی تھیں”میں روز رات کو چیک کرتی ہوں کہ کہاں کہاں گٹر پر ڈھکن نہیں ہے۔ خدانخواستہ اگر اس میں کوئی بچہ گر جائے۔۔۔تو کون ذمہ دار ہے؟ لگتا ہےکچھ لاپرواہی ان کی طرف سی بھی ہوئی ہے,اب دو انسانی زند گیاں آسمان کو چھو لینے کے دعوے کرنے والی حکومت کی دور میں لاہور کی سیوریج لائن میں ڈوب گئی ۔ لاہور میں بسنت فیسٹیول منانے سے پہلے مین ہول ، سیوریج
لائنز اور کھودے گئے گڑھے کور کردیے جاتے تو دو قیمتی جانیں ضائع نہ ہوتیں

