The fire broke out on Saturday at the Gul Plaza shopping mallکراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع  گل پلازہ میں لگی آگ پر 18 گھنٹوں بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا

The fire broke out on Saturday at the Gul Plaza shopping mallکراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع  گل پلازہ میں لگی آگ پر 18 گھنٹوں بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

 یہ کراچی ہے !پاکستان کا تجارتی حب,  جہاں آئے روز کسی ماں کا لعل کھلے  مین ہول میں گر کر مرتا ہے تو کسی کو بھڑکتی آگ را کھ کر جاتی ہے.  ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے شہر کے تمام حفاظتی دعوؤں کو خاک میں ملا دیا۔ ’تیسری بار صدر میں کسی عمارت کو آگ لگی ہے۔ کب تک یہ سب ایسے ہوتا رہے گا اور کب تک ایسے لاشیں اٹھتی رہیں گی؟‘

 گل پلازہ میں آتشزدگی رات 9:45 سے 10:15 کے درمیان شروع ہوئی اور 1200 سے زائد دکانیں جل گئیں۔ گل پلازہ کی آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل کی گئیں، مگر ابتدائی گھنٹوں میں پانی کی کمی اور ریسکیو اہلکاروں کی محدود رسائی انسانی جانوں کے ضیاع کی اہم وجہ بنی۔ ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی مراحل میں عمارت میں داخل ہونا انتہائی دشوار تھا۔

The fire broke out on Saturday at the Gul Plaza shopping mallکراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع  گل پلازہ میں لگی آگ پر 18 گھنٹوں بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا

 آگ سے اب تک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ایک فائر فائٹر سمیت چھ افراد کی ہلاکت اور 20 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ آفس ساؤتھ کی ہیلپ ڈیسک پر 34 لاپتا افراد کے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔دوسری جانب دکانداروں نے لوگوں کے اندر پھنسے ہونے کے خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔

’میری دکانیں میری آنکھوں کے سامنے جل رہی تھیں‘

زین نامی دکاندار نے بتایا کہ آگ سنیچر کی شب ساڑھے دس بجے گراؤنڈ فلور پر لگی اور اس وقت دکانداروں کے علاوہ سینکڑوں افراد پلازہ کے اندر موجود تھے ’میری دکانیں، میری آنکھوں کے سامنے جلتی رہیں، ہم ان دکانوں سے سامان بھی نہیں نکال سکے۔ بہت سارے لوگ اب بھی اندر موجود ہیں، میرے کئی دوست ہیں جن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔‘

جائے حادثہ پر موجود ایک بزرگ شہری اپنی بھانجی، اُن کی تین بیٹیوں، نواسی اور بیٹے سے متعلق جاننے کے لیے پلازے کے باہر موجود تھے۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ لوگ شادی کی خریداری کے سلسلے میں کل گُل پلازہ آئے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری اللہ سے دعا ہے کہ کوئی معجزہ دکھا دے اور اُن کی سانسیں باقی ہوں۔وہ کہتے ہیں ’یہ ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہے، جو اپنے گھر تالہ لگا کر آئے تھے، اب اس گھر کا تالہ کون کھولے گا، یہ اللہ ہی جانتا ہے۔‘

The fire broke out on Saturday at the Gul Plaza shopping mallکراچی: ایم اے جناح روڈ پر واقع  گل پلازہ میں لگی آگ پر 18 گھنٹوں بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا

گل پلازہ کے سابق سیکریٹری جنرل عارف قادری نے بتایا کہ سنیچر کی شب سوا دس بجے آگ لگی اور اس نے کچھ ہی لمحات میں گل پلازہ کی پانچوں گلیوں کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ہم نے کراچی میں بڑی بڑی آگ لگتی دیکھی ہیں لیکن یہ آگ کچھ الگ ہی قسم کی تھی۔ جب آگ لگی اس وقت 70 فیصد دکانیں کھلی تھیں کیونکہ سنیچر کو ویک اینڈ کی وجہ سے گاہگ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

کیا پلازے میں فائر ایگزٹ کے مناسب انتظامات تھے؟ اس سوال کے جواب میں عارف قادری کا کہنا تھا کہ گراؤنڈ فلور پر 13 داخلی دروازے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں سے فوری طور پر باہر نکل گئے۔اُن کے بقول اسی طرح ہر فلور پر آگ بجھانے والے سلنڈر موجود تھے اور دکانداروں نے ان کے ذریعے آگ بجھانے کی کوشش بھی کی لیکن آگ اتنی شدید تھی کہ یہ کام نہیں آ سکے۔ کاسمیٹک، کمبل اور گارمنٹس کی دکانوں کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لیا.

ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب نے بتایا کہ جائے حادثہ کے قریب بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے کھدائی اور سڑک تنگ ہونے سے ریسکیو گاڑیوں کو گُل پلازہ تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

          وزیراعلیٰ سندھ، میئرکراچی کسی نے ابھی تک رابطہ نہیں کیا: صدرگل پلازہ  تاجر ایسوسی ایشن

حکومتی دعوے  اور بیانات 

اتوار کی صبح صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی گُل پلازہ کا دورہ کیا اور اس دوران میڈیا سے بات کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ’جو عمارتیں بناتے ہیں، جو ان میں رہتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں ایسے واقعات میں سب سے زیادہ نقصان ان ہی کا ہوتا ہے۔‘’عمارتیں بناتے وقت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے، کہیں نہ کہیں کوتاہیاں ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں نقصان ہوتا ہے۔‘

 یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا المیہ تھا جس نے انسانی جانوں، دکانداروں کے خواب اور اربوں روپے کے تجارتی سرمایہ کو یکجا راکھ میں تبدیل کر دیا۔

Leave a Comment