Embracing Identity:Breaking Barriers and Changing Societyخواجہ سرا بھی انسان ہیں,ہما رے آج کے کالم کا موضوع ہے
خواجہ سرا جنہیں ہیجڑا، کھسرا،کھڈرا،ٹرانسجنڈر،کنرجیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے،بیچارے مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک خوفناک زندگی گزارتے ہیں،ساری زندگی ایسے جرم کی سزا بھگتے ہیں جو انہوں کے کیا ہی نہیں ہوتا،آج کی دنیا میں امریکہ،یورپ میں انہیں عام شہریوں کے برابر حقوق ملتے ہیں بلکہ بعض ریاستوں میں انہیں ملنے والے حقوق کا تناسب عام شہریوں سے زیادہ ہے۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ چونکہ مردانگی سے محبت کرتا ہے یہاں یہ لوگ عبرتناک صورتحال کا شکار ہیں،انہیں اپنا پیٹ پالنے کے لیے بعض اوقات ایسی اخلاقی گراوٹ میں اترنا پڑتا ہے جس کے تصور سے ہی گھن آتی ہے۔ معاشرے نے انہیں تفریحی نقطہ بنادیا ہے،شادی بیاہ،حقیقہ یا دوسرے خوشی کے موقع پر انکو بلایا جاتا ہے،قوم لوط سے بچا ہوا گھٹیا مرد کسی خواجہ سرا سے زبردستی زیادتی کا مرتکب ہو تو قانون اپنے کان بند کر لیتا ہے،مظلوم اکثر دہائی دیتے پائے جاتے ہیں کہ پولس ساڈا پرچہ وی نئی لیندی(پولیس ہمارا پرچہ ہی نہیں کاٹتی)

اتہاس میں جھانکنے سے یہ بات باور ہوتی ہے کہ خواجہ سراؤں کو مسلم معاشرے میں ہمیشہ عزت و احترام دیا گیا،ترکوں کی خلافت عثمانیہ میں سلطان عثمان پہلے ترک بادشاہ تھے جنہوں نے خواجہ سراؤں کو باقاعدہ ریاستی مناصب دیے،انہیں مقدس فریضہ مساجد کی خدمت کا سونپا گیا،جب تک سلطنت عثمانیہ قائم رہی اللہ کے گھر کی خدمت خواجہ سراؤں کے ذمہ تھی،مغل بادشاہوں کے درباروں میں خواجہ سراؤں کو عزت و احترام حاصل رہا، بادشاہ کے حرم تک انکی رسائی ہوتی،شاہ کے خاص مصاحب میں انکا شمار ہوتا،برصغیر میں انگریزوں کی آمد کے بعد خواجہ سرا تذلیل کا شکار ہوئے،1871 میں کرمنل ٹرائبز ایکٹ نافذ کیا گیا جس کے تحت پوری خواجہ سرا برادری کو مجرم قبیلہ قرار دیا گیا،اس قانون سازی نے ایک سماجی رویے کو جنم دیاجس سے خواجہ سراؤں کا سماج سے رابطہ کٹ گیا،وہ تنہا رہ گئے،نفرت،تضحیک،تحقیر کی علامت بن گئے،انکا گرو ہی انکے لیے والدین،اساتذہ،مشیر،معتمد غرضیکہ پوری کائنات بنتا چلا گیا،یہی وہ سماجی گرہ ہے جو اب تک کھل نہیں سکی۔ہم 8.2ارب انسانوں میں سے کوئی مرد ہے یا عورت تو اس میں اس کا کیا کمال،اگر کوئی خواجہ سرا پیدا ہوا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور،یہ فیصلے تو میرے رب کے ہیں لیکن اللہ کی مخلوق کا آج رویہ یہ ہے کہ اگر کوئی خواجہ سرا مر جائے تو اس کا جنازہ کوئی نہیں پڑھتا،کسی مسجد میں اسکی فوتگی کا اعلان نہیں کیا جاتا،کوئی اس کی میت کو کندھا دینے کو تیار نہیں،کبھی آپ نے سوچا کہ رات کی تاریکی میں خواجہ سرا کا جنازہ کیوں اٹھایا جاتا ہے،ریاستی ڈھانچے میں کوئی ایسی نوکری نہیں جو انکے لیے مختص ہو،

سال 2018میں ٹرانسجنڈر پرسنز قانون بنایا گیا جس کی رو سے خواجہ سرا شناختی کارڈ بنوا سکتے ہیں،اپنی مرضی کی شناخت جو انکے نزدیک درست ہو لکھوا سکتے ہیں (اس پر بھی بعد میں قدغن لگائی گئی کہا گیا کہ جنس کا تعین خواجہ سرا خود نہیں کر سکتے)جائیداد کی خریدو فروخت کر سکتے ہیں،جامع قانون سازی کا مقصد خواجہ سرا کے لیے اپنی شناخت کے حق کو یقینی بنانا، روزگار،تعلیم،صحت کی دیکھ بھال میں امتیازی سلوک کو روکنا تھا۔ہیومن رائٹس آف پاکستان کی کی رپورٹ کے مطابق شناختی کارڈ حاصل کرنے اور تعلیمی مواقع تک رسائی حاصل کرنے والے خواجہ سراؤں میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔
آجکل نامور قانون دان بیرسڑاعتزاز احسن کی کتاب‘انڈس ساگا’ زیر مطالعہ ہے،کتاب کی پہلی سطرکا آٹھواں لفظ ‘مسنومر’ ہے یعنی کسی بھی نام کا غلط طورپر مشہور ہو جانا،جیسے ماضی میں مذہبی پیشواؤں اور اساتذہ کے بارے میں ہمارا تصور تھا کہ یہ مالی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں، بالکل ایسے ہی دنیا میں پیدا ہونے والے 15%معذور افراد میں ہم صرف گونگے،بہرے،اندھے،لنگڑے لوگوں کو شامل کرتے ہیں یعنی کہیں نا کہیں جسمانی کمزوری کا شکار،مرد،عورت میں جینیاتی معذوری پائی جاتی ہے کیونکہ یہ بھی اعضائے جسم ہیں ان میں بھی معذوری ہو سکتی ہے بعض اوقات یہ پیدائشی اور بعض اوقات بلوغت پر ظاہر ہوتی ہے، خواجہ سرا بھی انہیں میں شامل ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں ہم نے انہیں تیسری جنس سمجھ لیا ہے۔دنیا میں کامیاب خواجہ سراؤں کی ایک طویل لسٹ ہے، کیمرج کی میئر جینی بیلی بھی خواجہ سرا تھیں،فرانس کے سفارتکار چارلس ایڈن،امریکہ کی جج وکٹوریہ کلاٹوسکی،ہمسایہ ملک بھارت کے مشہور فلم ساز کرن جوہر،ڈریس ڈیزائنرمنیش ملہوترا نمایاں نام ہیں، 2019 میں تھامس لیڈنبرگر نے ایک فلمI am Anastasia ڈائریکٹ کی جو جرمن فوج کے لیفٹیننٹ کرنل کی زندگی پر فلمائی گئی جس نے اپنی جسمانی کمزوری کو اپنی طاقت میں تبدیل کیا اور فوج میں اعلی عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا،

جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ چند ایک مثالوں کے علاوہ ہم ابھی ببلی،بنٹی،الماس بوبی سے باہر نہیں نکلے،پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حقوق کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا،یہ مایوسی،امید،تشدد اور فتح کے دھاگوں سے بنی ایک داستان ہے، آگے بڑھنے والا ہر قدم ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے غیر متزلزل جذبے کا ثبوت ہے
| تفصیل | اہم مسائل | معاشرتی کردار | عنوان |
|---|---|---|---|
| ٹرانس جینڈر وہ افراد ہیں جن کی جنس پیدائش کے وقت دی گئی شناخت سے مختلف ہوتی ہے۔ | شناخت کی قبولیت کا مسئلہ | فنون، فلاحی کام اور سماجی خدمات میں اہم کردار | تعریف |
| خواجہ سرا کمیونٹی اپنی مخصوص ثقافت اور روایات رکھتی ہے۔ | قانونی شناخت اور دستاویزات کے مسائل | تقریبات میں دعائیں دینا، کمیونٹی کی نمائندگی | شناخت |
| تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی | امتیازی رویے، معاشرتی تنہائی | آگاہی مہمات اور حقوق کی جدوجہد | چیلنجز |
| ریاست اور معاشرہ انہیں برابری کے حقوق دینے کا ذمہ دار ہے | سماجی و معاشی عدم مساوات | مثبت کردار کے ذریعے معاشرتی تبدیلی لانا | حقوق |

چند ہوشربا حقائق: 1صوبہ خیبر پختونخواہ 2015-2018 کے دوران 500 کے قریب خواجہ سرا مار دیے گئے2: ایسے لگتا ہے ہم ذلیل ہونے کے لیے پیدا ہوئے ہیں،ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہم غائب ہو جائیں لیکن ہم کہاں جائیں 3: آپ کو ہمارے جسموں پر بیشمار نشانات ملیں گے کچھ زیادتی کے اور کچھ خودکشی کے4:میں بارہ سال کا تھا جب میرے بھائی کو پتہ چلا کہ میں خواجہ سرا ہوں،وہ پاگل ہو گیا،میری بھنویں مونڈ دی گئیں،ایک ماہ تک زنجیروں سے باندھ دیا گیا،میری بہنوں نے مجھے آزاد کروایا،پھر میں نے گھر چھوڑ دیا5: ہمارا وجود ہماری مزاحمت ہے6: آخر میں سب سے تکلیف دہ جملہ جو ایک خواجہ سرا نے کہا کہ اگر میری پیدائش پر میرا حق ہوتا تو میں کتا بننا پسند کرتا جو تمام عمر اپنی ماں کے ساتھ رہتا
میں مورت ہزار صورت ہوں، میں کتنی حسیں بد صورت ہوں