Political Ignorence,سیاسی پیر خانے , ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
برصغیر میں اسلام کی بقا اور ترویج میں صوفیائے اکرام،بزرگوں،پیروں،ولیوں کا کلیدی کردار رہا ہے،اولیا، صوفی،قطب،ابدال،مجذوب،خلیفہ سب کے سب انسانیت کی بھلائی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر گئے، حضرت مجدد الف ثانی، حضرت بہاؤ الدین زکریا، حضرت علی ہجویری، حضرت میاں میراں جیسی عظیم ہستیوں نے انسانیت کو ایک خدا کی خدائی سے روشناس کیا،بزرگان دین کے آستانے محبتوں کے مراکز اور اتفاق کی علامت ہوتے ہیں جہاں ہزاروں لوگ اپنی روحانی پیاس بجھاتے ہیں۔

پیر فارسی زبان سے اردو میں آیا جس کے معنی ضعیف یا بوڑھا کے ہیں، زمانہ الفاظ کو نئے معنی عطا کرتا ہے پاک و ہند میں پیر کا لفظ روحانی پیشوا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جنگ آزادی کے مجاہدین کو کچلنے، ایسٹ انڈیا کمپنی کے دست راست بننے کے لیے ان روحانی پیشواؤں نے انگریزوں کے حق میں فتوے دیے،جنگ کو بغاوت قرار دے دیا اور انعام کے طور پر جاگیریں پائیں، آرٹیفشل انٹیلیجنس کے اس دور میں یہ پیر خانے،درگاہیں،مزار، خانقاہیں ہماری توہم پرستی پر مہر ثبت کرتے ہیں۔

پاکستان میں مزارات کی کل تعداد 3424 ہے انکے متولی اور پیر ہمارے سیاسی نظام میں حصہ دار ہیں،بطور مسلمان ہمارا عقیداہ تو ایک خدا کو ماننے کا تھا لیکن افسوس!آج ہم جتنے خداؤں کی زد میں ہیں وہ سب کہ سب ہمارے اپنے ہاتھوں کے تراشیدہ ہیں ٭: آکسفورڈ اورہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ بینظیر بھٹو خاصی حد تک پیر پرست ثابت ہوئیں 1980 میں بنگلہ دیش میں ایک پیر صاحب سے ملیں ان سے دریافت کیا کہ میرے بابا کے قاتل کب انجام کو پہنچیں گے؟ پیرصاحب نے ایک لمحہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں کچھ دیر کے بعد کہا؛جب آم ہوا میں پھٹیں گے؛(آمر ضیا کا طیارہ کریش ہوا تو اس میں آم کی پیٹیاں بھی موجود تھیں) 2007 جلاوطنی کے بعد جب پاکستان واپس تشریف لائیں تو لاڑکانہ میں قنبر کے حسین شاہ(پیر صاحب)کے آستانہ پر حاضری کے لیے گئیں، تصویر میں پیر صاحب کرسی پر اور محترمہ نیچے زمین پر پیر صاحب کے قدموں میں بیٹھی دیکھی گئیں پھر کیا تھا پیر صاحب کی تو چاندی لگ گئی بڑے بڑے لوگ پیر صاحب کے ڈیرے پر ڈھیر ہونا شروع ہوئے
دھنکہ شریف آف مانسہرہ عرف دیوانہ بابا بی بی کو نواز شریف سے ترکے میں ملے پیر صاحب کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جس کو غضب ناک ہو کر چھڑی مارتے اسکی مراد بھر آتی، میاں صاحب نے پیر صاحب کے آستانہ تک بجلی پہنچائی جبکہ بینظیر صاحبہ نے سڑک کا نظرانہ پیش کیا، پیر صاحب کی فرمائش پر ہیلی کاپٹر کا جھولا بھی دیا گیا،غلام مصطفیٰ جتوئی بھی دیوانہ بابا کے مرید رہے آخری عمر میں نگراں وزارت ِ عظمیٰ کا ملنا بھی پیر صاحب کی نظر کرم کا فیض مانا گیا۔ چک شہزاد کے ملتانی بابا بھی بی بی شہید کے پیروں میں سے تھے۔

پیر آف گولڑہ شریف گدی کی تجلیات نواز شریف اور بینظیر پر موقع کی مناسبت سے گراتے رہتے،سی ڈی اے میں پیر صاحب کے کئی مریدین ملازم جس کی وجہ سے رئیل سٹیٹ کا کاروبار بھی زرخیز پاکستان کے سابق صدر اور آمر پرویزمشرف اقتدار سنبھالنے کے بعد مشائخ سے ملاقات کے بڑے شائق تھے ایک بار انہوں نے اپنا ایک وفد پیر آف گولڑہ شریف پیر نصیر الدین شاہ مرحوم کے پاس بھیجا اور ان سے ایوان صدر میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا،پیر صاحب نے یہ کہ کر انکار کر دیا؛دنیا داری کی محفلوں میں میرا کیا کام؛خیر دو تین مرتبہ وفود بھیجنے پر پیر صاحب ایوان صدر کے مہمان ٹھہرے! بگل بجائے گئے پرویز مشرف نے بذات خود ان کا استقبال کیا, چشم فلک گواہ رہے گی

ایک طرف قومی اسمبلی میں نئے وزیر اعظم شاہد خان عباسی کا انتخاب اور تقریب حلف برداری جبکہ دوسری طرف چند گھنٹے بعد عمران خان کی پاکپتن حضرت بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حاضری، اس موقع پر تحریک انصاف کے مقامی رہنما راؤ ہاشم نے ایک پوسٹ لگائی؛جو شخص جوہر کامل(بابا فرید) کی درگاہ پر بصد عاجزی حاضر ہو اس پر کسی کو ہراساں کرنے کا الزام کیسے لگایا جا سکتا ہے؛سابق وفاقی وزیر غلام فرید مانیکا کی بہو بشریٰ بی بی نے جہانگیر ترین کی لودھراں ضمنی الیکشن2015 میں کامیابی کی پیش گوئی کی تھی ترین صاحب تب سے بی بی کے معتقد ہیں
یہ بشریٰ بی بی ہی تھیں جنہوں نے پانامہ کیس کے آخری مرحلے میں خان صاحب کو پہاڑی مقام پر ڈیرے ڈالنے ما مشورہ دیا تھا اور خان صاحب آٹھ ہزار دو سو فٹ بلند نتھیا گلی کے ریسٹ ہاؤس منتقل ہو گئے اور تب ہی نیچے اترے جب دشمن چاروں شانے چت ہوتا نظر آیا، خان صاحب کا روحانی طاقت پر اعتقاد کوئی نئی بات نہیں 2011 میں اپنی کتاب؛پاکستان اے پرسنل ہسٹری؛میں لکھتے ہیں بہت سال پہلے ساہیوال کے ایک پیر نے مجھے کہا؛نہ صرف تو خود مشہور ہو گا بلکہ اپنی والدہ کا نام بھی روشن کرے گا؛خان صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں جب میں نے پہلی مرتبہ کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان کیا تو مجھے سرحدی گاؤں کے ایک پیر بابا جھلا نے کہا؛تو ابھی نہیں گیا تو انشااللہ ابھی گیم میں ہے؛مزید لکھتے ہیں بزرگ میاں بشیر نہ ہوتے تو شاید میں لیمب بوتھم ہرجانہ کیس میں کنگال ہو چکا ہوتا۔ جاوید غامدی،پروفیسر رفیق صاحب سے بھی خاصے متاثر رہے، جنرل اشفاق کیانی بھی پروفیسر صاحب رفیق کے نیازمندوں میں شامل تھے

پیران ِ پیر مدظلہّ آصف زرداری گوجرانوالہ کے پیر اعجاز شاہ کے خاص مریدوں میں شامل، عرصہ صدارت کے پانچ سال پیر صاحب ایوان صدارت میں بوریا نشین،ملکی، غیر ملکی دوروں پر صدر کے شانہ بشانہ، جب بینظیر اور آصف زرداری نے امریکہ کا پہلا دورہ کیا تو وائٹ ہاؤس آنے والے وفد میں ایک پراسرار حلیے کے بزرگ شامل تھے وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی انہیں دیکھ کر چکرا گئی، پیر صاحب کے حکم پر روزایوان صدر میں بکرے کی قربانی دی جاتی، زرداری صاحب نے کب پانی کے قریب رہنا ہے (اعجاز شاہ کا فیضان نظر ہی تھا کہ مرید خاص بلاول ہاؤس کراچی جو سمندر کے قریب اور دبئی تو تھا ہی ساحل پر) خاصا وقت گزار پائے اور کب پہاڑوں پر اسکا فیصلہ پیر صاحب کرتے سوئس اکاؤنٹس کیس کے زمانے میں پیر صاحب نے ایک سال مدینہ میں چلہ کشی کی یوسف رضا گیلانی کی قربانی کے بعد لوٹے، انجم نیاز the pir in the palace میں لکھتے ہیں زرداری تک پہنچنے کے لیے پیر صاحب کے روحانی چیک سے گزرنا پڑتا یہاں تک کہ نصیر اللہ بابر جیسا شخص بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھا

ہمارے سیاستدانوں میں ایک نام ایسا بھی ہے جن کی نہ کسی؛پیر سے بنی نہ چیف سے؛1980کی دہائی میں شریف خاندان طاہر القادری کے حلقہ اثر میں تھا،طاہر القادری دعویٰ کرتے ہیں کہ میاں صاحب نے انہیں کندھے پر بیٹھا کر خانہ کعبہ کا طواف کروایا اس کے بعد کے حالات تاریخ کا حصہ ہیں ماڈل ٹاؤن کے واقعہ نے کیسے پیر صاحب کے دل کو ٹھیس پہنچائی اور پھر کیسے پیر صاحب کاچشمہ فیض رکا،کیسے پیر منہاج نے مریدوں کے خلاف دھرنا دیا،کیسے کفن پہن کر خندقیں کھودی گئیں
بہرحال پاکستان ہو یا اامریکہ پیر ہر جگہ ہیں امریکی صد ر روزویلٹ کی بھی ایک پیرنی ہوا کرتی تھی انہوں نے جان ایف کینڈی کے قتل کی پیش گوئی کی جو سچ ثابت ہوئی.امریکی پیر خاصے پر اسرار، صدر سے لے کر معمر قذافی تک انکے مرید
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جنہیں کروڑوں عوام مرکز امید سمجھتے ہیں انکا اپنا مرکز نگاہ کہیں اور ہوتا ہے توہم پرستی، بد عقیدگی جھگیوں جھونپڑیوں سے نکل کر ایوانوں پارلیمانوں تک پہنچ چکی ہے ہماری سابق وزیر اطلاعات جھاڑ جھنکار کے لیے انڈے سر سے وار رہی ہیں ایسا لگتا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ انکی بلائیں چھ انڈوں سے ٹل جائیں گی،جس ملک کے امین فہیم جیسے پڑھے لکھے وزیر خاندانی جائیداد بچانے کے لیے اپنی بہنوں کا نکاح قرآن پاک سے کر دیں وہاں عام عوام کی جہالت کا کیا عالم ہو گا،پیروں کا سیاسی ایوانوں میں اثر و رسوخ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ طاقت انسان کو توہمات اور خدشات کا اسیر بنا دیتی ہے
میں سب پر ہوں بھاری بتایا ہے میں نے،فقط راج اپنا چلایا ہے میں نے
لٹیروں میں جنکا نہیں کوئی ثانی،انہیں تخت پر لا بٹھایا ہے میں نے
سیاسی تماشے کی کٹھ پتلیوں کو،اشاروں پہ اپنے نچایا ہے میں نے