10 January:تاریخ کے جھروکوں سے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
اوقات بدلتے دیر نہیں لگتی، مگر واقعات کے نشان باقی رہتے ہیں۔ہر بڑے واقعے کے پیچھے قربانیوں، جدوجہد اور خوابوں کی ایک پوری دنیا چھپی ہوتی ہے,دنیا کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، جس میں مختلف تہذیبیں، سلطنتیں، اور اہم شخصیات نے انسانی زندگی پر گہرا اثر چھوڑا قومیں تب بیدار ہوتی ہیں جب وہ ماضی کے واقعات سے سبق سیکھتی ہیں،تاریخ کے بڑے حادثے وقت کو چیرتے ہوئے نسلوں کو جھنجھوڑ جاتے ہیں,تاریخ کا سیل رواں کبھی رکتا نہیں ، یہ جاری و ساری رہتا ہے,تو آئیے تاریخ میں جھانکتے ہیں
اعلامیہ تاشقند:علامیہ تاشقند 10 جنوری 1966 کو پاک بھارت جنگ 1965 کے بعد روس کی ثالثی میں طے پانے والا ایک امن معاہدہ تھا۔ پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے سوویت یونین کے شہر تاشقند میں اس پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی افواج 5 اگست 1965 کی پوزیشن پر واپس گئیں اور مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیہ تاشقند کے اہم نکات :جنگ بندی اور افواج کی واپسی،کشیدگی میں کمی،باہمی تعلقات کو معمول پر لانا ،مسئلہ کشمیر کا پرامن طریقے سے حل تلاش کرنا سوویت ثالثی: اس معاہدے میں سوویت یونین کے وزیر اعظم الیکسی کوسیگن نے اہم کردار ادا کیا۔ اس معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹے بعد بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری تاشقند میں ہی انتقال کر گئے

پاکستان نیشنل الائنس( PNA)
نو سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک مقبول اور مضبوط دائیں بازو کا ایک سابق سیاسی اتحاد تھا۔ جو 1977ء میں تشکیل دیا گیا تھا۔ جس کو دائیں بازو کی جماعتوں نے 1977 کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو ( پاکستان پیپلز پارٹی) کے خلاف واحد بلاک کے طور پر سیاسی مہم چلانے کے لیے تشکیل دیا تھا۔ پی این اے کے 9 جماعتی اتحاد میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کی مخالف اور متفرق خیالات کی حامل ہونے کے باوجود، پی این اے کو بڑے متحرک طور پر چلا رہی تھیں ۔ جس کا اصل مقصد وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنا تھا۔

اپنے دائیں بازو کے مقبول ایجنڈے کے باوجود، اتحاد نے 1977ء کے عام انتخابات میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے۔ مہینوں کی بے ساختہ پرتشدد سیاسی سرگرمی کے بعد، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ ہوا جس میں سیاسی انتقام کا مطالبہ ہوا۔ 1978ء میں، پی این اے کا اتحاد اس وقت اپنے اختتام کو پہنچا جب پارٹیاں اپنے ہر ایجنڈے میں الگ ہو گئیں, اتحاد نے ایک انتخابی نشان “ہل” کے تحت انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے نشان کے طور پر نو ستاروں کے ساتھ ایک سبز پرچم تھا۔
مختصر عالمی تاریخ – جدول
| اثر / نتائج | اہم شخصیات | واقعہ | عرصہ / سال |
|---|---|---|---|
| تحریر اور تہذیب کی بنیاد | سومیری حکمران | میسوپوٹیمیا کاآغاز | 3000 ق م |
| کھیلوں کی عالمی روایت | یونانی اتھلیٹس | یونانی اولمپکس | 776 ق م |
| نئی تہذیب اور ریاستوں کا قیام | اسلام کا پھیلاؤ | 632 عیسوی | |
| نئی دنیا کا آغاز | کرسٹوفر کولمبس | امریکہ کی دریافت | 1492 عیسوی |
| جمہوریت اور انسانی حقوق کے نظریات | نپولین | فرانسیسی انقلاب | 1789 عیسوی |
| عالمی سیاست کی نئی تقسیم | نپولین | پہلی جنگ عظیم | 1914–1918 |
| اقوام متحدہ کا قیام | اتحادی و محوری طاقتیں | دوسری جنگ عظیم | 1939–1945 |
| سائنسی انقلاب | نیل آرمسٹرانگ | انسان کا چاند پر جانا | 1969 |
| سرد جنگ کا اختتام | گورباچوف | سوویت یونین کا خاتمہ | 1991 |
| عالمی سکیورٹی کے نئے قوانین | القاعدہ | نائن الیون حملے | 2001 |

جولیس سیزر نے 10 جنوری 49 قبل مسیح کودریائے روبیکن کو عبور کیا:10 جنوری 49 قبل مسیح کو، جولیس سیزر نے اپنی تیرہویں لیجن کے ساتھ دریائے روبیکن کو عبور کیا، جو اٹلی کی شمالی سرحد تھی۔ یہ عمل سینیٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی تھی اور اس نے “روبیکن پار کرنا” (Crossing the Rubicon) کی اصطلاح کو غیر واپسی کے فیصلے کے طور پر مشہور کیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں رومن ریپبلک میں خانہ جنگی شروع ہوئی، جس نے سیزر کو روم کا ڈکٹیٹر بنا دیا۔
جولیس سیزر کو رومی سلطنت کا سب سے قابل قدر اور عظیم سپہ سالار سمجھا جاتا ہے جولیسزر پہلے رومی فوج کا کمانڈر بنا یہ پہلا جرنیل تھا جس نے گال یعنی موجودہ فرانس آسٹریا سوٹزرلینڈ ہالینڈ بیلجیم کے قدیم علاقے میں داخل ہو کر ایک بڑی فتح حاصل کی اور اس بڑے علاقے کو رومی سلطنت کا حصہ بنایا یہاں والی یورپی قوم سیلٹس کو شکست دی اور ان کو شکست دی اور کو رومی کا حصہ بنایا۔

“عوامی کار-ٹاٹا نینو ” 2008ء میں بھارتی کمپنی ٹاٹا موٹرز نے نئی دہلی آٹو ایکسپو میں دنیا کی سب سے سستی کار، ‘ٹاٹا نینو’ (Tata Nano) متعارف کرائی۔ رتن ٹاٹا کے اس منصوبے کا مقصد عام آدمی کے لیے (تقریباً ایک لاکھ روپے) کے عوض کار کی ملکیت ممکن بنانا تھا۔ اسے “عوامی کار” کے طور پر پیش کیا گیا، جس نے آٹو موبائل کی صنعت میں سستی گاڑیوں کے تصور کو اجاگر کیا۔

بھارتی اداکار ریتک روشن کا جنم د
ریتیك روشن’ ( ہندی: ऋतिक रोशन پیدائش : 10 جنوری 1974 ) ایک بھارتی اداکار ہیں جو بالی ووڈ میں کام کر رہے ہیں۔ سن 1980 میں ریتیك روشن نے ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر فلموں میں آئے اور پھر سنہ 2000ء میں بطور ہیرو فلم کہو نا پیار ہے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم کو بڑی کامیابی ملی، ریتیک روشن کی بہترین اداکاری کے لیے ان کو بہترین اداکار اور بہترین نیا اداکار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ کوئی مل گیا (2003)، كرش (2006) اور دھوم 2 (2006) جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے لیے مشہور رہے ہیں۔ ان فلموں کے لیے وہ چار مرتبہ بہترین اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ کزان میں ان گولڈن ممبر انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اپنا پہلا بین الاقوامی ایوارڈ اور جودھا اکبر فلم میں اداکاری کے لیے ان کو روس میں اعزاز حاصل ہوا۔

لاہور، پاکستان 2008 میں خودکش حملہ، 22 افراد جاں بحق:۔یہ بم دھماکہ بدھ کی شب رات کو گیارہ بجے کے بعد علامہ اقبال ٹاؤن پولیس سٹیشن کے بالکل سامنے دبئی چوک پر ہوا تھا۔پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے پیدل آ کر مون مارکیٹ کے دبئی چوک پر سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ مون مارکیٹ میں موجود شہری بھی حملے کا شکار ہوئے۔ دھماکے کے وقت مون مارکیٹ میں اپنے کنبوں کے ساتھ کھانے پینے اور خریداری کے لیے آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔بم دھماکہ اتنا شدید تھا اس کی زد میں آنے والے لوگوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے جبکہ چوک پر واقع مسجد اور دیگر عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

فتح مکہ جنوری 630,10ء (رمضان 8ھ) میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 10,000 جاں نثاروں کے ساتھ مکہ معظمہ میں داخل ہو کر اسے پرامن طور پر فتح کیا۔ یہ فتح انتہائی کم خونریزی (صرف چند افراد) کے ساتھ ہوئی، اور آپ ﷺ نے اہل مکہ کے لیے “عام معافی” کا اعلان کر کے تاریخِ انسانی کی مثالی اخلاقی فتح قائم کی، جس کے نتیجے میں مشرکین کی طاقت کا خاتمہ ہوا۔
فتح مکہ کے اہم پہلو:تاریخ اور لشکر, پرامن پیشرفت,عام معافی,شرک کا خاتمہ