“Sugar Crisis in Pakistan: How Shortages, Hoarding, and Policy Failures Drive Rising Prices.”میٹھا زہر, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
کچھ سفر وسیلہ ظفر ثابت ہوتے ہیں اور کچھ بے سمت سفر دائروں جیسے،جن میں نہ منزل ملتی ہے نہ ہی کنارا آتا ہے انسان وقت کی دھول مٹی اور بھول بھلیوں میں کھو جاتا ہے۔آج جو سفر موضوع تحریر ہے اس کا آغاز بھی رسوائی اورانجام بھی رسوائی ہے جی ہاں قارئین بات ہو رہی ہے چینی اور چینی مافیا کی،پنجابی زبان کا محاورہ ہے؛کسے نوں مانہہ(دال ماش)بادی تے کسے نوں مافق؛ آج کل چینی عوام کے لیے تو بادی ہے جبکہ حکمرانوں کو مافق۔ کاشتکار کْش حکومت نے اپنی نا اہلی،نا تجربہ کاری سے پہلے بمپر کراپ(گندم)کے کسانوں کو چھٹّی کا دودھ یاد کروایا اب لٹھ لے کے عوام کے پیچھے پڑی ہے۔گویا افتاد عام اور خواص پر برابرٹوٹی ہے۔شاید آپ کو پڑھ کے حیرت ہو کہ گنا نہ توفصل ہے اور نہ ہی پودا،گنا اصل میں گھاس ہے جو ہندوستان کے جنوب مشرق میں پیدا ہوتا تھا 4 ہزار سال قبل ہندوستان کے لوگوں نے گنے سے گڑ بنانا شروع کیا، گنے کے رس(راب)سے کھانے اور ادویات بنائی جاتیں،گڑ کی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہندوستان نے تھائیلینڈ،تائیوان اور چین کے ساتھ گنے کی تجارت کی اگلی منزل ایران تھی، ایران سے اسے عربوں نے اچک لیا عربوں سے گنا اندلس(اسپین)چلا گیاگوروں نے بھی گنا اگانے کی کوشش کی لیکن زمین اور آب و ہوا موزوں نہ ہونے کی صورت میں کامیاب نہ ہو سکے گوروں نے ہمت نہ ہاری چقندر کو گنے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا اور ہندوستان میں شوگر ملیں لگا نا شروع کیں چینی کو پوری دنیا کے لائف سٹائل کا حصہ بنایا آج ہر شخص سالانہ 68 کلوگرام چینی استعمال کرتا ہے جو کہ ہماری جسمانی ضرورت سے 10گنا زیادہ ہے۔
چینی کا سفر
پندرھویں صدی جب 1492 میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا , یہاں پہلی یورپی بستی بنی یہاں کا موسم گرم مرطوب اور پانی میٹھا تھا ہسپانوی جہازران 1501 میں ہندستان سے گنا لائے زمین میں بویا،تجربہ کامیاب رہا دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں ایکڑ رقبے پر گنا کاشت ہونا شروع ہو گیا ہسپانیولا اسپین کے لیے شوگرفیکٹر ی بنتا چلا گیا16 ویں صدی میں چینی کی ساری انڈسٹری پرتگال اور اسپین کے ہاتھ میں تھی یہ پوری دنیا میں شوگر(سنسکرت زبان کا لفظ)کا ریٹ طے کرتے
شوگر مافیا
۔یہ تو تھا چینی کا سفر اب ذرا چینی سے حاصل ہونے والی آمدن کے سفرکا حال جانیے! PDMحکومت نے

“Sugar Crisis in Pakistan: How Shortages, Hoarding, and Policy Failures Drive Rising Prices.”میٹھا زہر, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
پد2023 میں درآمدی گندم کا جو طلسماتی منصوبہ متعارف کروایا جس نے ملک کی مانگ میں 85اربکی کرپشن بھری(شاید آپ کو اس وقت کے وزیر اعظم کاکڑ اور حنیف عباسی کی میریٹ ہوٹل میں ہونے والی تکرار یاد ہو)اسی فارمولے پر موجودہ حکومت من و عن عمل پیرا ہے۔جولائی 2024 سے مئی 2025 تک 7 لاکھ65ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کی گئی اورتقریباً 114 ارب روپے کمائے گئے۔اس کارثواب میں ایک مرتبہ پھر حصہ ڈالا جا رہا ہے 7 لاکھ65ہزار میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے جس کی مالیت 198ارب روپے ہے یعنی مزید 84ارب روپے کمائے جائیں گے۔ وفاقی کابینہ تب چینی برآمد کرنے کی اجازت نا دیتی تو یہ بحران پیدا نہ ہوتا لیکن افسوس(سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے)عالمی منڈی میں چینی کی قیمت 0.37ڈالر یعنی 105روپے بنتی ہے جبکہ عوام کو یہ میٹھا زہر 200-215روپے میں دستیاب ہے،قیمت کو کنٹرول کرنے کی بجائے سرکاری ہرکارے دوکانوں پر چھاپے مار ر ہے ہیں، دوکانداروں کو بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں چھوٹے دوکانداروں نے چینی رکھنا ہی چھوڑ دی ہے۔ 7لاکھ 65ہزار میٹرک ٹن سے7 لاکھ65ہزار میٹرک ٹن کے اس سفرمیں کسی کے حصے میں کھنڈ مشری آئی اور کسی کے حصے میں پوشاک چیٹھڑوں کی ماند اور پاؤں آبلہ
عوام کی یاداشت کے لیے
| پہلو | تفصیل | وجوہات | اثرات |
|---|---|---|---|
| چینی کی قلت | مارکیٹ میں چینی کی دستیابی کم ہونا | ذخیرہ اندوزی، برآمدات، ناقص منصوبہ بندی | قیمتوں میں تیزی سے اضافہ |
| قیمتوں میں اضافہ | چینی کی فی کلو قیمت میں غیر معمولی اضافہ | طلب و رسد میں عدم توازن، منافع خوری | عوام پر معاشی بوجھ |
| حکومتی پالیسی | سبسڈی اور درآمدی فیصلے | غلط پالیسی سازی، کمزور نگرانی | بحران کا بار بار پیدا ہونا |
| عوامی ردِعمل | احتجاج اور شکایات | مہنگائی، آمدنی میں کمی | عدم اطمینان، معیارِ زندگی متاثر |

تحریک انصاف کی حکومت میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے شوگر مافیا کو عوام کے سامنے ایکسپوز کیا تھا جس پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قریبی ساتھیوں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا مشینری حرکت میں آئی کیس حتمی مراحل میں داخل ہوا ہی تھا کہ کرم فرماؤں نے پارٹی میں ہی فارورڈ بلاک بنا کر حکومت کی بنیادوں میں شگاف ڈال دیا کمزور حکومت عدم اعتماد کا تھپیڑہ نہ سہہ سکی،وزیر اعظم یہ کہتا ہوا؛کوئی رہ تو نہیں گیا؛اپنی ڈائری پکڑ کر وزیر اعظم ہاؤس سے رخصت ہو گیا۔ پاکستان اڑان بھر چکا کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم کے ذہن میں شاید یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ جو گڑ سے مرے اسے زہر کیوں دیں
بس ہو گئی خدایا مقدر کو پھیر دے۔اس بے امان رات کو اجلی سویر دے
دیتا ہے اقتدر تو مسند نشین کو۔پروردگار ظرف کی دولت بھی ڈھیر دے