Ameer Temoor: Military Genius and Empire Builderدونوں ہاتھوں سے یکساں طاقت سے لڑنے والا ایک ترک فاتح 

Ameer Temoor: Military Genius and Empire Builderدونوں ہاتھوں سے یکساں طاقت سے لڑنے والا ایک ترک فاتح ,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

ایک ترک فاتح،دونوں ہاتھوں سے یکساں طاقت سے لڑنے والا جوخاص طور پر ہندوستان سے اپنی فتوحات کے لیے مشہور ہوا  تاریخ اسے تیمور لنگ کے نام سے یادکرتی ہے۔تیموری سلطنت کا بانی امیر تیمور سمرقند کے قریب ایک گاؤں کیش (موجودہ ازبکستان)میں 1336ء میں پیدا ہوا اس کے والدین معمولی درجے کے زمیندار تھے۔ جوانی میں سپاہی کی حیثیت سے فوج میں شامل ہوا چند ماہ بعد اس نے سپہ سالار کو قتل کر دیا اور فوج کی عنان سنبھال لی۔اس وقت سمرقند کا تاجدار تیمور کا بہنوئی امیر حسین تھا جو تیمور کو حقیقی معنوں میں اپنے لیے خطرہ محسوس کرتا تھا اس نے تیمور سے جان چھڑانے کی کوششیں شروع کر دیں،تیمور کوامیر کے ارادوں کی بھنک پڑ گئی 1370میں تیمور نے بلخ میں امیر حسین کا محاصرہ کیااور امیر کے قتل کے بعدسمرقند کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ اسکامیابی کے بعد تیمور نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا وہ گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوا اور آدھی دنیا سموں میں روند دی،طاقت نشین ہونے کے بعد تیمور نے اپنے لیے صاحب قرآن کا لقب اختیار کیا(علمِ نجوم کیمطابق ایسا شخص جس کی پیدائش کے وقت زحل اور مشتری ایک ہی برج میں ہوں یعنی اقبال مند،بہادر اور جری)

Ameer Temoor: Military Genius and Empire Builderدونوں ہاتھوں سے یکساں طاقت سے لڑنے والا ایک ترک فاتح 

اپنی آخری عظیم مہم پر1399ء کے اختتام سے پہلے آزربائیجان پر کنٹرول کے بعد اس نے حلب کا رخ کیا لیکن اس معرکے میں اسکی سپاہی پسپا اور یادگاروں کو تباہ کیا گیا۔1405ء میں اپنی وفات تک وہ Timur the great بن چکا تھا جب بھی کوئی مہم فتح کرتا تو وہاں کے مردوں کو ذبح،عورتوں کو یرغمال اور بچوں کو غلام بنا دیتا،شہر کو آگ لگا دی جاتی،سپاہیوں کو لوٹ مارکی کھلی چھٹی تھی، کسی کی املاک محفوظ تھیں نہ عزت، کھوپڑیوں کے مینارکھڑے کیے جاتے چنگیزی شوق کے ساتھ ساتھ وہ علم و فن کا بھی شیدادہ تھا جنگ کے بعد عالموں فاضلوں اور اہل فن کو تا مرگ بھاری وظیفوں سے نوازا جاتا۔حافظِ قرآن ایسا کہ الناس سے الم تک قرآن کو الٹا پڑھ سکتا تھا لیکن جبر کی انتہا یہ تھی کہ اپنے ہدف کو اطاعت کی پیشکش کرتا انکار کی صورت میں توپوں کے دھانے کھول دیے جاتے اور مخالف سرکش باغیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی،تیمور لنگ کی اسی مہم جوئی کی عادت نے اس کے ہاتھوں 54ملک برباد کروائے وہ وسطی ایشیا کے طاقتور فاتحین میں سے آخری تھا جس نے اسطرح کی فوجی کامیابیاں حاصل کیں جس نے زرعی اورچراگاہی لوگوں دونوں پر شاہی پیمانے پر حکومت کی اسکی مہمات کی وجہ سے غربت،خونریزی اورویرانی نے بہت سے افسانوں کو جنم دیا

امیر تیمور نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی جس کا اردو میں ترجمہ؛میں ہوں تیمور؛کے نام سے کیا گیا دنیا کی 70 سے زائد زبانوں میں اس کتاب کا ترجمہ ہو چکا ہے  اس کتاب میں تیمور کی فتوحات کا تفصیلی ذکر ہے جس میں امیر نے اپنے آپ کو طاقت،ارادے اور جزبے کے ہمالہ کے طور پر پیش کیا جبکہ حقیقت میں تیمور لنگ انا،تکبر کا ایکایسا دیوہیکل بت تھا جس کے آگے روس،شام،ایران،انقرہ اور ہندوستان جیسی ریاستیں کی بلَی چڑھائی جاتی رہی اور اس بلَی میں دھان دیا جانے والا خون نہتے،بے بس پر امن شہریوں کا ہوتا۔

زمرہتفصیلزمرہتفصیل
پورا نامامیر تیمور گورکانیتاریخِ پیدائش9 اپریل 1336ء
جائے پیدائشکش (موجودہ شہر سبز، ازبکستان)قومیتترک-منگول
لقبتیمور لنگسلطنتتیموری سلطنت
پیشہفاتح، حکمراندارالحکومتسمرقند
نمایاں فتوحاتوسطی ایشیا، ایران، ہندوستانجنگِ پانی پت1398ء
مذہباسلامدورِ حکومت1370ء تا 1405ء
وفات18 فروری 1405ءجائے وفاتاوترار (قازقستان)
تاریخی اہمیتعظیم فاتح و منتظموراثتتیموری سلطنت کی بنیاد
Ameer Temoor: Military Genius and Empire Builderدونوں ہاتھوں سے یکساں طاقت سے لڑنے والا ایک ترک فاتح

مقالہ مشہور ہے کہ؛جنگ ختم ہو جائے گی،حکمران مصافحہ کریں گے،مفاد سمیٹیں گے اور عوام زخم گنیں گے؛ایسے ہی زخم جیسے افغانی، صدر بش اور ملا عمر کی چھیڑی جنگ کے بعد سے گن رہے ہیں،بش کی عراق جنگ میں انسانی جانوں کا المیہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ابراہیم لودھی اور ظہیر الدین بابر مسلم بھائیوں کی اناؤں کے آگے کتنے انساں کھیت ہوئے کبھی کسی نے گنے؟دوسری عالم گیر جنگ میں کیا ہٹلر اور چرچل نے 2کروڑعوام سے ریفرنڈم کروایا تھا، ہیروہیٹو کی غیر سنجیدگی ہیروشیما،ناگاساکی کو ابھی تک تابکاری عناصر سے نجات نہیں دلا سکی1979 میں جنرل ضیا کی افغان جنگ میں شرکت میں عوام کی رائے کا کتنا عمل دخل تھا ڈالر اور اقتدار کسی اور کے حصے میں آئے،کلاشنکوف،ہیروئین اور دہشتگردی کے حقدار عام عوام ٹھہرے۔ روس یوکرین اپنے محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں، مودی منہ کی کھائے بیٹھا ہے لیکن انا کی چتا سے دھواں ابھی بھی اٹھ رہا ہے، آج تاریخ کا سبقیہ ہے کہ ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا تقریبا 7 صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی امیر تیمور لنگ جیسے کرداروں کی روحیں اناؤں کے میناروں پر بھٹکتی پھرتی ہیں

     جب کبھی میری دل ذرہ خاک پر،سایہ غیر یا دست دشمن پڑا۔۔

جب بھی قاتل مقابل صفِ آرا ہوئے، سرحدوں پرمیری جب کبھی رن پڑا

میرا خونِ جگر تھا کہ حرف ہنر، نظر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا۔۔

اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاھیں،اب فقط مسئلہ تاجِ شاہی نہیں 

Leave a Comment