ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے,Muhammad Shah Rangeela, the fourteenth king of the Mughal Empire
بادشاہ محمد شاہ رنگیلہ
ہندوستان کی 2 ہزار سالہ تاریخ کا مطالعہ کرنے پریہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتا ہے کہ قانون و انصاف کی حکمرانی،انسانی حقوق کا تحفظ اور اداروں کی مضبوطی کبھی بھی حکمرانوں کی پہلی ترجیح نہیں رہا،طاقت کے بل بوتے پر حکمرانی کی اور چھینی جاتی رہی۔بادشاہ محمد شاہ رنگیلہ

مغلیہ سلطنت کا چودھواں بادشاہ محمد شاہ رنگیلہ اورنگزیب عالمگیر کے بعد قیادت اور سیاسی ابتری کے بحران میں طویل المدت بادشاہ گذرا ہے1748 کو جب کثرت شراب نوشی کے باعث محمد شاہ رنگیلہ انتقال کر گیا تو اس کے اکلوتے بیٹے احمد شاہ کو دہلی کا تخت سونپ دیا گیا احمد شاہ رموزِ حکمرانی سے سرے سے نابلد تھا اسکی واحد قابلیت محمد شاہ رنگیلے کی اولاد ہونا تھا آنے والے وقت نے (لمحوں نے خطا کی،صدیوں نے سزا پائی) جیسے قول کو سچ ثابت کیا احمد شاہ خبطِ عظمت میں مبتلا ایک نا اہل حکمران تھا اپنے تخت کے پایوں کو مضبوط رکھنے کی خاطر احمد شاہ نے مصاحبین ِ دربار پر عنایات، بلند بانگ خطابات اور انعام و اکرامات کے منہ کھول دیے،
شکم سیردرباری ہمہ وقت شاہ کی شان میں رطب اللسان رہتے،کج فہمی اس نوبت کی تھی کہ مالیے (ٹیکس، حکومتی آمدن)کی غیر منصفانہ اور بیدریغ تقسیم نے ریاست کی بنیادیں بٹھا دیں،خاندانی ضیافتیں سرکاری خرچے پر ہوتیں،سرکاری ہرکارے فخریہ میزبانی کے فرائض ادا کرتے، بے حسی کا عالم یہ تھا کہ خاندانی تقریبات پر کروڑوں خرچ ہوتے جبکہ اسی وقت میں سرکاری ملازمین اپنی اجرت کے حصول کے لیے دہلی کی سڑکوں ہر ہنگامہ کرتے نظر آتے۔سفاکی کے اس کھیل میں تمام اعلیٰ عہدوں پر احمد شاہ کے خاندان کے قریبی عزیز براجمان تھے،لالچ و کجکلاہی کا ننگا کھیل جاری تھا کہ رحمتِ ایزدی جوش میں آئی اور ایک سابق وزیر اعظم عماد الملک احمد شاہ کی صفوں میں قہر بن کر ٹوٹا اس نے عوام کے اعتماد اور مرہٹوں کے پیشوا ملہار راؤ کو ساتھ ملا کر قیامت برپا کر دی، بادشاہ اور والدہ کی آنکھیں نکال دی گئیں انہیں سالم گڑھ قلعہ میں قید کر دیا گیا جہان وہ اپنی موت تک زیر عتاب رہے(بے شک ہر عروج کو زوال ہے)

ایسٹ انڈیا کمپنی کی 200 سالہ غلامی کے بعد باٹا پور،میرٹھ چھاؤنی سے اٹھنے والی1857 کی آزادی کی تحریک
میں مسلمانوں اور ہندؤں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،دونوں قومیں ہر صورت Union Jack کے جھنڈے سے آزادی چاہتی تھیں جبکہ دوسری طرف عالم یہ تھا کہ انگریز سونے کی اس چڑیا (برصغیر)کو کسی صورت ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا اس پر آشوب دور میں شاطر گورے نے مذہبی رہنماؤں میں منافقت کا بیج بویا جو دیکھتے ہی دیکھتے تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا،وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے نقشوں میں ردو بدل کر کے کمال مہارت سے دونوں جانب خونی لکیر کھینچ دی 1947 کے آتے آتے ہندوستان جواہر لال نہرو کی قیادت میں ہندؤں او رپاکستان قائد اعظم کی عظیم رہنمائی میں مسلمانوں کا ملک بن گیا۔تاریخ یہاں بھی ہمارے ساتھ ہاتھ کر گئی نہرو سولہ سال تک آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم ر ہا اس دوران اس نے اداروں کو مضبوط کیا،جمہوریت کا ڈول ڈالا، نوزائیدہ ملک کو ڈاکٹربھیم راؤ امبیدکر کی رہنمائی میں ایک مضبوط آئین دے کر اداروں کی حدود کا تعین کیا غرض یہ کہ موتی لال کا بیٹا آنے والے بھارت کی منزل کا تعین کر گیا

ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ ہمارا قائد آزادی کے صرف ایک سال بعد ہی تپ دق سے زندگی کی بازی ہار گیا ساتھ ہی قوم کو یہ بات بتانا نا بولا کہ میری جیب میں کھوٹے سکوں کے سوا کچھ بھی نہیں،منزل کا تعین کیا ہونا تھا ملی منزل کے رستے بھی دھول مٹی میں کھو گئے، اسکندر مرزا، غلام محمد پھر ایوب خان،یحییٰ خان، مشرف اور ضیاء جیسے ڈکٹیٹروں نے ہمارے راستے مزید کھوٹے کر دیے،محلاتی سازشیں جمہوریت کو دیمک کی طرح چاٹ گئیں
بھارت واجپائی،منموہن سنگھ، نرسیماراؤ اور نریندرا مودی کی قیادت میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے خواب دیکھ رہا ہے اور ہم ہیں کہ فارم 45/47 سے ہوتے ہوتے ادھی،پونی،کچی،پکی،سنگل،ڈبل سٹیم کا تعین کرنے والے نااہل رہنماؤں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ احمد شاہ جیسے کئی سفاک ہماری صفوں میں گھس بیٹھے ہیں لگتا ہے کہ ہم ابھی بھی 1750میں ہی جی رہے ہیں،آخر میں صرف اتنی ہی دعا ہے کہ خدایا جیسے تو نے مظلوم کی آواز پر محمد بن قاسم کو بھیجا،حجاج بن یوسف کو بھیجا ایسے ہی ہمارے ملک کی مانگ بھی کسی عماد الملک سے بھر دے(آمین)
نازل کر اب عیسیٰ کو،اب بھیج خدایا مہدی کو دیکھ دجاّل آزاد ہوئے اور پھولوں کے کیا حال ہ