……Great Personalities of Pakistan:کیسے کیسے درخشاں لوگ
اس کو پاکستان کی خوش قسمتی کہیں کہ یہاں ایسی ایسی نابغہ روزگار ہستیاں پائی جاتی ہیں کہ جنہوں نے اپنے کارہائے نمایاں سے پاکستان کا چہرہ عالمی افق پر جگمگانے میں اہم کردار ادا کیا،پاکستان کی مادی اور فکری ترقی اور قومی بالیدگی میں انکا کردار لازوال ہے۔جرمنی کا ہٹلر، اسکی سوچ، اسکی انا نے ایک نیا جنم لیا، اس کا قول مشہور ہے کہ مجھے درسی کتابوں کو کنٹرول کرنے دو نتیجے میں میں ریاست کو کنٹرول کروں گا۔

عمران خان: سیاست سے بلند نظر ہو کر عمران خان اونچے طبقے کے نیازی پشتون خاندان کا سپوت، ایک کرکٹر، مخیر اور سماجی کارکن،دو دہائیوں تک کرکٹ کھیلی، شوکت خانم ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، نمل یونیورسٹی،القادر ٹرسٹ کے روح رواں،سولہویں صدی میں انکے اباؤ اجداد میں ہیبت خان نیازی شیر شاہ سوری کے معزز جرنیل اور پنجاب کے گورنر رہے،عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے 1992کا ورلڈ کپ جیتا،88 ٹیسٹ میچ کھیل کر 362 وکٹیں حاصل کیں،پاکستان کی تاریخ کے پہلے کپتان تھے جنہوں نے بھارت کو بھارت اور انگلینڈ کو اس کی سر زمین پر ہرایا،زیادہ سے زیادہ سکور 102 ناٹ آؤٹ،کرکٹ ریکارڈ کے مطابق ایک بھی نو بال نہیں کروائی،بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے،حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ،ہلال امتیاز، انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ حاصل کیا۔(قومی ہیرو آجکل دہشت گردی کے پرچوں میں پابند سلاسل ہے)

سید بابر علی:اٹھانوے سالہ سید بابر علی نے اپنی زندگی میں اتنے کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے عظمت کا سفر تا حال جاری ہے، مشہور پاکستانی ماہر تعلیم، تاجر، مخیر اور کامیاب بزنس مین،سابق نگران وزیر خارجہ، لاہور کی مشہور یونیورسٹی لمز کے بانی،اس عظیم شخص نے پیکجز انڈسٹری لگائی،انکے پیکجز مال نے لاہور کی کمرشل زندگی کو نئی جہت عطا کی،نیسلے، ملک پیک کے اونر، تیس سال سے زیادہ عرصہ تک ورلڈ وائلڈ لائف پاکستان کے ہیڈ رہے،1997 میں برطانیہ سے آرڈر آف دی برٹش ایمپائر ایوارڈ،کینیڈا سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی،ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنر رہے،حال ہی میں بیوروکریٹ اور غیر ملکی پرنسپل کے درمیان تنازعہ میں تعلیمی بیقدری پر مستعفی ہو گئے۔

جسٹس اے۔آر۔کارنیلسن: عدلیہ کے شعبے میں سب سے بڑا نام جسٹس اے۔آر۔کارنیلسن کا ہے،آگرہ کی اینگلو انڈین فیملی میں پیدا ہوئے،رومن کیتھولک فرقے سے تعلق،سکالر شپ پر کیمرج گئے، انڈین سول سروس کا امتحان اعزازی نمبروں سے پاس کیا، 1943 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج بنے،اسلامک شریعہ لا پر مکمل عبور،آٹھ سال تک پاکستان کے چیف جسٹس رہے،1954 میں گورنر جنرل غلام محمد نے پارلیمنٹ کو تحلیل کیا تو جسٹس منیر نے اس فیصلے پر نظریہ ضرورت لاگو کر کے اس کی تصدیق کی، جسٹس نیلسن بھی اس بنچ کا حصہ تھے،انہوں نے بے دھڑک اختلافی نوٹ لکھا اور ایک آزاد جج کی حیثیت سے تاریخ میں امر ہو گئے۔(کاش آج کوئی کار نیلسن ہوتا کوئی جسٹس دراب پٹیل ہوتا)

فیض احمد فیض:ترقی پسند شاعر ادب میں فیض احمد فیض کا نام روشن ستارے کی ماند ہے، اقبال کی طرح سیالکوٹ کے مردم خیز خطے میں پیدا ہوئے اور سید میر حسن کے شاگرد رہے،مزاہمتی شاعری کا استعارہ تھے، مزدوروں، کسانوں کے حقوق پر نظمیں لکھیں،،حیدرآباد جیل میں قیدیوں کو درس قرآن دیتے،عربی میں ماسٹر کیا، ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے حامی تھے،یہ داغ داغ اجالا،یہ شب گزیدہ سحرلکھنے پر اندرا گاندھی نے بھارتی شہریت اور علی گڑھ یونیورسٹی کی وائس چانسلر شپ کی آفر کی،آپ نے شکریہ کے ساتھ معذرت کر لی،سوویت یونین نے لینن ایوارڈ سے نوازا،راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوئے(افسوس شاعروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ آج تک تھم نہ سکا)

آغا شاہی: سفارتکاری کا نمایاں نام،پاکستان اور چین میں قربتیں بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا،1971 کے جنگی قیدیوں کو واپس وطن لانے میں بھرپور کوششیں کیں،جنرل ضیا کی پہلی کابینہ میں وزیر خارجہ رہے،جنرل صاحب کو امریکہ کے ساتھ پر جوش معانقہ کرنے سے منع کرتے رہے،جنرل صاحب نے انکی بات کو درخور اعتنا نہ سمجھا تو 1982میں آغا شاہی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔(عجب آزاد مرد تھا)
یہ چند لوگوں کا تعارف ہے جنہوں نے اپنی مختصر سی زندگی کو با مقصد بنایا،سبق یہ ہے کہ ہر انسان اپنی دنیا آپ پیدا کر سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے۔ان تمام نے روشن کل کے لیے اپنا آج قربان کیا۔
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے، کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار بنتاہے