Is Urdu our national language?اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

Is Urdu our national language? اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

دنیا کا ہر ملک اپنی قومی زبان کا احترام کرتے ہوئے ملک کی تمام سرکاری و قومی دستاویزات قومی زبان میں شائع کرتا ہے تاکہ شہریوں کو پڑھنے،سمجھنے میں آسانی ہو،لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے،ہماری قومی زبان اردو جبکہ سرکاری زبان انگریزی ہے جس سے ہماری غلامانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے،گزرے سالوں میں ہمارے ارباب اختیار یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکے کہ اردو کو قومی زبان کا درجہ دینا ہے یا سرکاری کا،یہی وجہ ہے کہ ہماری عدلیہ،مقننہ،انتظامیہ عملی طور اردو کو سرکاری زبان تصور نہیں کرتے۔ نصاب کے معاملے میں ہماری سوچ بدلتی رہتی ہے،مشرف کو انگریزی پسند تھی  تو ضیاالحق کو اردو،دنیا کے کئی ممالک بشمول چین،ترکی،بھارت،جرمنی کی جامعات میں اردو پڑھائی جا رہی ہے جبکہ ہماری ترجیحات میں انگریزی سرفہرست ہے۔ مختلف ممالک نے اپنی زبان کا انتخاب کیسے کیا،اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، پہلی مثال امریکہ اور انگلستان کی ہے جہاں لوگوں کی اکثریت کی زبان کو قومی زبان قرار دیا گیا،بعض افریکی ممالک جہاں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کے بعد آقاؤں کی زبان فرانسیسی کو قومی زبان قرار دے دیا گیا۔دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں ایک بھی قوم ایسی نہیں جس نے کسی اور زبان میں ترقی کی ہو،کم مدت میں انتہائی ترقی کرنے والا ملک جرمنی جہاں لوگ انگریزی سے نفرت کرتے ہیں، اسرائیل میں کسی کو انگریزی نہیں آتی،اسلامی ملک ترکی کی تیز رفتار ترقی کے پیچھے بھی اس کی اپنی زبان ہے،ہمسایہ ملک ایران جہاں استاد سے لے کر آرمی چیف،چیف جسٹس سے لے کر تھانے کچہری تک سارا نظام فارسی میں ہے،چین میں انگریزی پر عبور کے باوجود کوئی سرکاری عہدے دارانگریزی نہیں بولتا،فرانس میں تحریر و تقریر میں ایسے انگریزی الفاظ کا استعمال قانون کی رو سے جرم ہے جن کے متبادل الفاظ فرانسیسی زبان میں موجود ہیں،پولینڈ کے باشندے پولش بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، ہمارے دماغوں میں پتہ نہیں کس نے یہ بات بٹھا دی ہے کہ انگریزی کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے،نتیجہ کیا نکلا؛کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا؛ اردو کی طرف ہم نے توجہ نہ دی اور انگریزی ہم سے بولی نہیں جاتی۔

Is Urdu our national language?اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

اردو فارسی زبان کا لفظ،جس کے معنی لشکر کے ہیں، گیارھویں صدی عیسوی میں جب مسلمانUrdu ہندوستان میں آکر آباد ہوئے تو انکی زبان فارسی،عربی یا ترکی تھی،مقامی زبان کی آمیزش سے ہندوی،دکنی اور آخر میں اردو کی واضح شکل ظاہر ہوئی،جسے متحدہ ہندوستان کے شعرا،ادبا نے پروان چڑھایا، اردو ادب کی تاریخ ایک ہزار سال پرانی ہے جبکہ انگریزی ادب تین سو سال سے پہلے نظر نہیں آتا۔قیام پاکستان سے لے کر 60 کی دہائی تک ہماری معاشرت میں انگریزی زبان کا عمل دخل واجبی سا تھا، ہم مدرسہ سے (سکول) تک تو پہنچ چکے تھے لیکن پہاڑے(ٹیبل) اور گنتی(کونٹنگ)نہیں ہوئیتھی،وقت نے کروٹ لی اردو کے زوال کا سفر دبے پاؤں شروع ہوا،پرچے سے(پیپر)،جماعت سے( کلاس) ششماہی( مڈ ٹرم ,تک ایک ہی جست کا نتیجہ، کاپیاں کب نوٹ بکس بنیں،بستے بیگزکہلائے،اور سب سے بڑی زیادتی جو ہم دیسی لبرلز نے اپنے ساتھ کی وہ،خالہ،چاچا،پھوپھو،مامی،تایا،تائی جیسے پیارے اور میٹھے رشتوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہانکتے آنٹی انکل تک لے آئے،اب ہمسائی بھی آنٹی ہے اور پھوپھو بھی آنٹی،سبزی والااور ماموں دونوں ہمارے بچوں کے انکلز ہیں (ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز،نا کوئی بندہ رہا نا بندہ نواز)ٹی وی پر نشر خبر نامہ میں نیوز کاسٹر اردو کی خبروں کو انگریزی لہجے میں پڑھ رہی ہوتی ہیں اور جب کسی غیر ملکی شخص کا نام یا ادارے کا ذکر کرنا مقصود ہو تو وہ ادائیگی غلط۔

چین کے وزیر اعظم چو این لائی اور چیئرمین ماؤزے تنگ انگریزی دان تھے،انگریزی میں چھپنے والی ہر کتاب کا مطالعہ کرتے،ماؤ زے کے بارے میں مشہور تھا کہ اگر ان کو انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتاتو وہ خاموش بیٹھے رہتے لیکن جونہی چینی میں ترجمہ کیا جاتا تو دل کھول کر قہقہے لگاتے،چو این لائی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو انگریزی زبان پر عبور ہے لیکن آپ ہمیشہ چینی زبان بولتے ہیں،لائی کا جواب تھا کہ؛ میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں چین بولا نہیں ہے؛ ہمارے سابق وزیر اعطم یوسف رضا گیلانی نے برلن میں انجیلا مرکل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی، جرمن چانسلر نے جرمنی میں خطاب کیا  جبکہ ہمارے وزیر اعظم نے انگریزی میں تقریر کی،شاید ثابت کرنا مقصود ہو کہ پاکستان بولا ہے۔

Is Urdu our national language?اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

ہم انگریزوں کا رائج کردہ ڈریس کوڈ نہیں بدل سکے جو مسلمانوں کی تحقیر کی خاطر ویٹر کوٹوپی کلاہ پہنایا جاتا،آج بھی ملک کے بڑے ہوٹلوں میں آپ کو ویٹر اسی حلیے میں ڈیوٹی انجام دیتے نظر آئیں گے۔پنجاب ٹریفک پولیس کی نئی وردی اسی غلامانہ سوچ کی عکاس ہے باقی تبدیلی تو دیوانے کا خواب لگتی ہے انگریزی کو برا نہیں سمجھنا چاہیے آج رابطے کی سب سے بڑی زبان ہے،کاروبار ہو یا سیاست  اگر آپ نے اپنے ملک کو آگے لے کر چلنا ہے تو  انگریزی پر عبور وقت کی ضرورت ہے، لیکن حقیقت میں قومیں تب تک قومیں نہیں بنتیں جب تک وہ اپنی سرحدوں،رسم و رواجوں، ثقافت،زبان پر فخر کرنا نہ سیکھ لیں،اردو ہماری قومی زبان،ہمارا سرمایہ،ہماری پہچان ہے۔جہاں من حیث القوم ہم ذہنی پستی کا شکار ہیں وہاں ہمارے حکمران بھی نقالی میں قوم کے شانہ بشانہ اپنے اپنے حصے کی شمعیں روشن کر رہے ہیں فائر وال سے فائبر وال اور پھر فائبر گلاس۔

Is Urdu our national language?اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

ذولفقار علی بھٹو، انکی صاحبزادی بینظیر بھٹو جس سلاست و روانی سے انگریزی بولتے،برٹش آیا و امریکن اسکولوں کافیضان تھا،آکسفورڈ،کیمرج،ہارورڈ یونیورسٹی کے تھیٹر،کیفے،لیکچرزلہجے کو مزید دوآتشہ کرتے، عمران خان،سابق صدر فاروق لغاری مرحوم عام طور پر اردو میں بات کرتے لیکن بوقت ضرور ت انگریزی میں تقریر کریں توآکسفورڈ کی خوشبو آئے،باقی بدیشی لہجے کے ساتھ اردو بولنے والے دیسی حکمرانوں کی ایک لمبی لسٹ ہے،چند روز قبل بڑے صوبے کی بڑی منتظمہ مین ہول کو من(آ دمی) ہول کہہ رہی تھیں شاید “سلپ آ ف ٹنگ” ہو،قومیت ملکی منظر نامے سے عنقا ہوتی جا رہی ہے پانی کی بوتلوں سے لے کر جہاز کے پائلٹوں تک سب غیر ملکی……اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

Leave a Comment