31 January in History: That Changed the Course of Time ماضی کی بازگشت,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
تاریخ کے صفحات میں بادشاہوں کی حکمرانی، عوام کی جدوجہد، جنگوں کی تباہ کاریاں اور امن کی کوششیں سب محفوظ ہیں۔تاریخ وقت کی لکھی ہوئی وہ لازوال نظم ہےجو صدیوں کے سینے میں دھڑکتی رہتی ہے۔اس کے ہر لفظ میں انسان کی خواہش ,ہر سطر میں اقتدار کی کہانی سوئی ہوتی ہے۔کہیں تاج سر پر رکھے جاتے ہیں، کہیں وہی تاج خاک میں مل جاتے ہیں مگر تاریخ یاد رکھتی ہے صرف اسے جو حق کے ساتھ کھڑا رہا۔
جنوری31- 1999 چنئی میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی

جنوری31- 1999 کو چنئی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے بھارت کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد 12 رنز سے شکست دی تھی۔ ثقلین مشتاق نے دوسری اننگز میں 5 وکٹیں جبکہ شاہد آفریدی نے دوسری اننگز میں 141 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ یہ میچ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین مقابلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام
ایسٹ انڈیا کمپنی کو 31 دسمبر 1600ء کو ملکہ الزبتھ اول نے ایک رائل چارٹر (شاہی فرمان) کے ذریعے قائم کیا اگرچہ کمپنی کا چارٹر 1600ء کے آخر میں جاری ہوا، لیکن اس کے قیام کے لیے تاجراں کی ابتدائی مشاورت اور منصوبہ بندی 1599ء میں شروع ہو چکی تھی اس کمپنی کا اصل مقصد ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مصالحہ جات اور دیگر اشیاء کی تجارت کرنا تھا۔کمپنی نے اپنا پہلا تجارتی مرکز میں مغل شہنشاہ جہانگیر کی اجازت سے سورت میں قائم کیا

پریتی زنٹا 31 جنوری 1975 کا یوم پیدائش
پریتی زنٹا، ایک بھارتی اداکارہ، اور کاروباری شخصیت بنیادی طور پر ہندی فلموں میں اپنے کام کے لیے جانی جاتی ہیں انہیں بہترین خاتون ڈیبیو کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ اداکاری کے علاوہ، زنٹا ایک سماجی کارکن، ٹیلی ویژن پریزینٹر، اور اسٹیج پرفارمر ہیں۔ پریتی زنٹا 31 جنوری 1975 کو شملہ، ہماچل پردیش، بھارت میں پیدا ہوئیں۔
| دلکش و بامعنی تفصیل | عنوان |
|---|---|
| تاریخ وقت کے سینے میں محفوظ وہ امانت ہے جو قوموں کے عروج و زوال، قربانیوں اور فتوحات کی خاموش مگر زندہ گواہی دیتی ہے۔ | تاریخ |
| تاریخ کا شعور انسان کو اپنی پہچان عطا کرتا ہے اور اسے ماضی کی روشنی میں حال سنوارنے اور مستقبل تعمیر کرنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ | شعورِ تاریخ |
| تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر عدل، علم اور کردار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ | سبقِ تاریخ |
| وہ قوم جو اپنی تاریخ کو سینے سے لگاتی ہے، وقت کی آندھیوں میں بھی سرخرو اور باوقار رہتی ہے۔ | قوم اور تاریخ |
ء – 2004پاکستان کے ایٹمی سائنسدان عبد القدیر خان پر ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا الزام لگایا گیا
پچاسی سالہ ایٹمی سائنسدان نے ستر کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کام شروع کیا۔ ملک میں سول اور فوجی حکومتیں آتی رہیں، لیکن پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھا البتہ 2004 میں جوہری ہتھیاروں کی ایران، شمالی کوریا اور لیبیا منتقلی کی خبروں نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی اور پاکستان پر بھی یہ الزام لگا کہ وہ ان ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث ہے اور اس ضمن میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام بھی خبروں میں آنے گا۔

انہوں نے ان الزامات کا ٹی وی پر آ کر اعتراف کیا اور اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے انہیں معافی دے دی تھی جس کے بعد وہ گزشتہ کئی برسوں سے سخت نگرانی اور سیکیورٹی میں اپنے گھر پر ہی مقیم تھے اور ان کی سماجی زندگی بہت محدود ہو گئی تھی۔البتہ بعدازاں کئی انٹرویوز میں اُن کا مؤقف رہا کہ جوہری ٹیکنالوجی کی مبینہ اسمگلنگ کے معاملے پر اُنہیں ‘قربانی کا بکرا’ بنایا گیا۔

انڈین نیشنل کانگریس نے برطانوی حکومت کے خلاف اپنی مزاحمت کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا
ء 1928میں انڈین نیشنل کانگریس نے برطانوی حکومت کے خلاف اپنی مزاحمت کو تیز کرنے اور “مکمل آزادی” (سوراج) کے مطالبے کو مزید تقویت دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سال سائمن کمیشن کی آمد اور برطانوی آئینی تجاویز کے خلاف ملک گیر احتجاج نے کانگریس کو ایک نئے، فعال دور کی طرف دھکیلا، جس کے نتیجے میں عدم تعاون کی تحریک دوبارہ متحرک ہوئی

مغل فوج کے کمانڈر انچیف محمد بیرم خان کو قتل کر دیا گیا
آج کے دن 31 جنوری 1561 کو ہمایوں اور اکبر کے دور میں مغل فوج کے کمانڈر انچیف محمد بیرم خان کو قتل کر دیا گیا۔ سرپرست، مشیر، استاد اور اکبر کے بااعتماد ساتھی تھے انہیں خانِ خانان (بادشاہوں کا بادشاہ) کہا جاتا تھا,ہمایوں کی قیادت میں ہندوستان کی فتح کی قیادت کی۔

نواب امب نے 1960 میں ریاست کا پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا
ریاست امب برطانوی بھارت میں ایک خود مختار نوابی ریاست تھی۔ 1960 میں نواب امب نے ریاست کا پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا۔یہ ریاست ایک پٹھان قبیلہ تنولی کے زیراثر تھی۔ اس کا موجودہ نام علاقہ تناول ہے۔ ریاست امب کے نواب محمد فرید خان تنولی جو موجودہ چیف آف تناول نوابزادہ صلاح الدین سعید خان تنولی کے دادا تھے۔ انھوں برصغیر کی شمال مغربی تمام ریاستوں میں سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جس کے عوض قائد اعظم محمد علی جناح نے خط کے ذریعہ ان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ خط آج بھی شیرگڑھ قلعہ (واقع اپر تناول ضلع مانسہرہ) میں آویزاں ہے۔